ایک ایسی شے جس کا مقدر دنیا کا سب سے بڑا برانڈبننا مقصود تھا، کوکا کولا سب سے پہلے 8مئی 1886کو جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں مقامی ماہر دوا ساز ڈاکٹر جان اسٹیتھ پمبرٹن نے تیار کیا۔ اس کو مقامی فارمیسی میں نمونے کے طور پر رکھ کر سوڈا فاﺅنٹین ڈرنک کے طور پر فروخت کے لئے پیش کردیاگیا۔ اپنے پہلے سال اسکی 9بوتلیں یومیہ اوسط کی بنیاد پر فروخت ہوئیں اور جلد ہی اشتہارکاری کے ذریعے یہ مشروب اپنے 'ذائقہ دار اور فرحت بخش' نعرے سے مقبول ہوگیا جو آج بھی بدستور مقبول ہے۔ 
دوسری عالمی جنگ چھڑنے کے ساتھ ہی کاروبار میں گراوٹ کے باوجود کوکا۔کولا بھرپور بھرپور منافع میں رہا ۔ کوکا۔کولا نے امریکی مسلح افواج میں ہر شخص کو محض 5سینٹ پر فراہمی شروع کردی ۔ جس سے اس کو موقع ملا کہ وہ ان مقامات پر بھی سیمپل بھیجے جہاں اس کو رسائی کا پہلے موقع نہ ملاتھااور جنگ کے دوران پانچ ارب سے زائد کوک کی بوتلیں استعمال ہوئیں۔ 
1947میں قیام پاکستان کے بعد کوکا۔کولا 1953میں وطن عزیز میں آگئی۔ ہر ملک کی طرح جہاں یہ آپریٹ کرتی ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی کوکا ۔کولا کا اپنا مقامی بزنس ہے۔ مشروبات یہاں مقامی طور پر تیار کئے جاتے ہیں پاکستانی شہریوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں ،اور مصنوعات کی رینج و مارکیٹنگ پاکستان میں ذائقے اور طرز زندگی سے ظاہر ہوتی ہے۔ 
کوکا۔ کولا کے متعارف ہونے کے بعد 1965میں فانٹا کو متعارف کرایا گیا ، اسپرائٹ کو 1972 میں متعارف کرایا گیا اور پھر 30سال کے وقفے کے بعد 2001 میں ڈائٹ کوک اور فانٹا لیمن کو متعارف کرایا گیا۔ فی الوقت کوکا ۔ کولا کے مشروبات پاکستان میں کوکا ۔ کولا بیوریجز پاکستان لمیٹڈ (سی سی بی پی ایل) کے تحت اپنی کمپنی کے باٹلنگ پلانٹس میں تیاری کے بعد فروخت کئے جاتے ہیں ۔ کوکا ۔ کولا پاکستان کے نام سے ایک مقامی سروس آفس کمپنی کے مقامی برانڈز کی مارکیٹنگ پر توجہ دیتا ہے۔