ہم سب  میں سے کتنے لوگ ہیں جن کے پاس ایسی کتابوں کے ڈھیر لگے ہیں جنہیں ہم اب نہیں پڑھتے؟ ایک ایسے گھر میں جس میں بچے بڑے ہو رہے ہوں وہاں والدین اپنی عمر کے حساب سے کتابیں خریدتے ہیں۔پاکستان میں زیادہ تر سکول جانے والے بچے بھی ہر سال نئی کتابیں خریدتے ہیں اور جب یہ کتابیں پرانی ہو جاتی ہیں تو انہیں نئی کتابوں کی جگہ بنانے کیلئے سٹور روم میں رکھ دیا جاتا ہے۔اسی طرح بڑی عمر کا ہونے کے بعد ہم میں سے اکثر کے پاس ایسی کتابیں جمع ہیں جنہیں ہم اب نہیں پڑھتے۔

کراچی میں دوہزار پندرہ کے لٹریچرفیسٹیول کے دوران نا صرف یہ کہ لوگوں کے پاس نئی کتابیں خریدنے کا موقع تھا بلکہ وہ اپنی پرانی کتابیں بُک بینک کو دے سکتے تھے۔بُک بینک کے سپاٹ سارے وینیو میں کوکاکولا کے پرانے شیشے والے کولرز میں بنائے گئے تھے جنہیں کتابوں کی الماریوں کی شکل دی گئی تھی۔وزیٹرز کو ان کے عطیات کے بدلے میں ڈرنکس دی گئیں۔
بُک بینک کے آئیڈیے کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔دوہزار سے زائد کتابیں جمع ہوئیں۔ان کتابوں کو سٹیزنز فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) نے ریویو کیا اور جو کتابیں بچوں کیلئے موزوں تھیں انہیں سکولوں کے حوالے کر دیا گیا۔دوسری کتابوں کو بیچ کر رقم ٹی سی ایف کے حوالے کر دی گئی۔ان دونوں سرگرمیوں سے نچلے طبقات کی مدد ہو گی۔
 
کراچی لٹریچر فیسٹیول میں شریک بہت سے لوگوں نے پرانے کولرز کو الماریوں کی شکل دینے کے آئیڈیے کو سراہا۔اپ سائیکلنگ کا تصور بہت مقبول ہو رہا ہے اور دنیا کی توجہ اب اس بات پر ہے کہ کسی بھی پروڈکٹ کو آخر میں کسی اور پروڈکٹ کے طور پر استعمال کیا جائے۔اس سے پروڈکٹ کا ماحول پر منفی اثر کم ہو جاتا ہے۔مزید یہ کہ بُک بینک کا تصور جس میں ہر قسم کی کتابیں معمولی قیمت پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔ وہ سب کیلئے کتابوں کی دستیابی یقینی بنا سکتا ہے خاص طور پر طلبہ کیلئے جنہیں اکثر نئی کتابیں خریدنے کا شوق ہوتا ہے۔اس فیسٹیول نے پرانی پراڈکٹس کو ٹھکانے لگانے اور پرانی کتابوں میں نئی جان ڈالنے کیلئے مثالی پلیٹ فارم دیا۔
کوکاکولا پاکستان نے ماضی میں بھی سیلاب سے متاثرہ مظفرگڑھ ضلع میں ٹی سی ایف کے سکول کی مکمل تعمیر کو سپانسر کیا تھا اور تین سال سے اس کے اخراجات بھی برداشت کر رہی ہے۔تعلیم کیلئے ایڈاپٹ اے سکول پروگرام کے تحت یہ کیئر فاؤنڈیشن کو بھی سپورٹ کرتی ہے اور سرکاری سکولوں کو بھی۔