لارن چائلڈز کو گزشتہ موسم بہار میں اٹلانٹا کے پورٹ فولیو سینٹر سے گریجوایشن کرتی ہے اپنی پسندیدہ جاب مل گئی۔کوک کے گلوبل کانٹینٹ ایکسیلنس گروپ کے حصے کے طور پر اب وہ اپنی گرافک ڈیزائن کی مہارت کو ہمارے برانڈ کی سن دوہزار چودہ کیلئے فیفا ورلڈ کپ کی مہم میں استعمال کر رہی ہیں۔

اگرچہ یہ ان کی پہلی کل وقتی ملازمت ہے لیکن وہ پہلے بھی کوکولا کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ملازمت ملنے سے چند ماہ پہلے وہ ایک ‘‘لائیو کلائنٹ’’ کلاس میں شامل تھیں جسے یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ پیکنجنگ میں ایک نئی جہت متعارف کرانے کے پراجیکٹ کو تخلیقی سمت دیں جو ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں تھا۔
چائلڈز کہتی ہیں ‘‘جب ہم نے یہ پراجیکٹ شروع کر دیا تو مجھے پتا چل گیا تھا کہ میں کوک کمپنی کیلئے کام کرنے والی ہوں۔مجھے اس ماحول سے محبت تھی۔ہر کوئی اس برانڈ پر فخر محسوس کر رہا تھا اور اس نے طلبہ کو قرار واقعی جوش دلایا۔ہم کسی ایسی چیز پر کام کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس کر رہے تھے جسے بہت سے لوگ دیکھیں گے اور چھوئیں گے’’۔
لارن ان پچاس سے زائد طلبہ میں شامل ہے جن کا تعلق پورٹ فولیو سینٹر سے تھا۔یہ ملک کے اعلیٰ ترین پوسٹ گریجوایٹ کری ایٹو کمیونیکیشن آرٹ سکولوں میں سے ایک ہے۔اور اس نے دوہزار بارہ سے کوکاکولا کے کئی پراجیکٹس کو سپورٹ کیا ہے۔
کوک کمپنی ہر سہ ماہی میں چھ سے دس طلبہ کو تخلیقی معاملات پر بریفنگ کیلئے ایک کلاس میں شامل کرتی ہے۔یہاں سے طلبہ ریسرچ شروع کرتے ہیں، مختلف حل بناتے اور انہیں بہتر کرتے ہیں اور پھر اپنی کمیونیکیشن کو کلائنٹ کو پیش کرتے ہیں۔طلبہ کی کچھ سفارشات سٹورز تک پہنچتی ہیں جبکہ باقی سفارشات کو کوک کے دوسرے پروگراموں میں استعمال کر لیا جاتا ہے۔

سکاچ یبونڈچ کوکاکولا نارتھ امریکہ کیلئے مشروبات کی چمکدار پیکجنگ اور فوری استعمال ہونے والا سامان تیار کرنے کے پراجیکٹ کے سربراہ ہیں۔ان کی ٹیم نے پورٹ فولیر سینٹر کے کری ایٹو برین ٹرسٹ کو بھی اپنے ساتھ ملایا ہے تاکہ کئی اہم پراجیکٹس کیلئے باہر سے بھی تخلیقی صلاحٰتوں اور کمیونیکیشن کی مہارتوں کو استعمال میں لایا جا سکے۔ان پراجیکٹس میں کم درجہ حرارت میں چلنے والا ایلومینیم کا کین بھی شامل ہے جس میں تھرموکرومیٹک انک ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے اور ایک ورائٹی سٹیشن بھی شامل ہے جس کے ذریعے خریداری کرنے والے کوک مشروبات کے دس پیکس بھی نکال سکتے ہیں۔سکول نے جن اور بہت سے پراجیکٹس کو سپورٹ کیا ہے وہ ابھی خفیہ ہیں کیونکہ انہیں ابھی عوام تک نہیں لایا گیا ہے۔
بیونڈچ کہتے ہیں ‘‘پورٹ فولیو سینٹر کے طلبہ نے پیچیدہ انجینئرنگ تصورات کو ظاہری زبان میں بدلنے میں ہماری مدد کی ہے جو ہمارے اندرونی برانڈ اور جدت کے خریداروں میں بہت مقبول ہے۔وہ ہماری برانڈ پوزیشن اور ظاہری شناخت کے نظٓم کو بہتر بنا کر ہمارے تصورات کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔طلبہ نے بڑے زبردست ڈیزائن اور آئیڈیاز دیئے ہیں اور اسی دوران دنیا کے نمبرون برانڈ کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے حقیقی دنیا کا تجربہ بھی حاصل کر لیا ہے۔یہ دونوں کیلئے حقیقی کامیابی ہے’’۔
اس پارٹنرز شپ نے کوک کو معمول سے ہٹ کر اپنے سب سے اہم صارفین سے متعلق بہت سی معلومات فراہم کی ہیں جو کہ نوجوان ہیں۔
پورٹ فولیو سینٹر کے ڈیزائنر ڈائریکٹر ہینک رچرڈسن کہتے ہیں ‘‘حقیقت میں وہ ان کے اپنے سامعین ہیں’’۔
رچرڈسن کے مطابق جو چیز پورٹ فولیو سینٹر کے طلبہ کو منفرد بناتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ تخلیقی ڈسپلن کی ایک وسیع رینج کو سامنے لاتے ہیں۔اور یہ رینج ڈیزائن اور سکرین والے میڈیا سے لے کر فوٹوگرافی اور تصویروں، آرٹ ڈائریکشن اور کاپی رائٹنگ تک ہر چیز میں موجود ہے۔اور سکول کی سب کو ساتھ ملا کرچلنے والی اپروچ کی وجہ سے یہ ساری رینج یکجا ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے ‘‘ہمارا نصاب مسائل کے حل کیلئے ڈیزائن کی سوچ کو ایک مربوط نظام والے ڈیزائن کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے جس کیلئے سوچو اور کرو کا ماڈل استعمال ہوتا ہے۔اپنے کئی پراجیکٹس کے ساتھ ہم کہانی سنانے کے آرٹ کو انجینئرنگ کی دنیا میں لا رہے ہیں اور جو لوگ بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھتے ہیں انہیں رنگین دنیا دکھا رہے ہیں’’۔
ویڈ تھامپسن پورٹ فولیو سینٹر سے فارغ التحصیل ہیں اور اٹلانٹا کی فرم سن اینڈ سنز کے کری ایٹو ڈائریکٹر ہیں انہوں نے کوک میں کئی ‘‘لائیو کلاسز’’ کو پڑھایا ہے۔ان کا کہنا ہے طلبہ کو کلاس روم سے اور سکول کی مشکلات سے دور لے جانا اور روزمرہ زندگی کے کاروباری ماحول میں رکھنا سیکھنے کے زبردست مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
تھامپسن کہتے ہیں ‘‘یہ بہت زبردست موقع ہے کہ طلبہ کی یہ سمجھنے میں مدد کی جائے کہ ایک کامیاب ڈیزائن پارٹنرشپ کیا ہوتی ہے اور اس کیلئے وہ کو ک کے کاروبار اور نظام کو سمجھتے ہیں اور یہ بھی کہ کیسے ڈیزائن کو استعمال کر کے لوگوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے’’۔
کوک کیلئے یہ تعاون اس کے برانڈ کیلئے بہت سے وکیل پیدا کر رہا ہے اور جیسا کہ چائلڈز نے ثابت کیا کہ یہ ایک مفید ٹیلنٹ پائپ لائن بھی ہے۔تھامپسن یہ بھی کہتے ہیں کہ طلبہ کے ساتھ کام کرنے کیلئے وقت نکال کر کوک کے لیڈر اپنی کمپنی کو ایک جدید اور ڈیزائن پر توجہ دینی والی کمپنی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
تھامپسن کہتے ہیں‘‘کوک ان لوگوں سے شاندار سوچ اور کام حاصل کر رہی ہے جو حل نکالتے ہوئے زیادہ پریشان نہیں ہوتے۔وہ اپنے پراجیکٹ کو کوک کے تناظر سے باہر رہتے ہوئے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور یوں وہ سکون سے غلطیاں کر سکتے ہیں اور اس حد تک جا سکتے ہیں جہاں کسی بھی کمپنی کے پاس جانے کی آزادی نہیں ہوتی’’۔
وہ کہتے ہیں ‘‘جب ہم ایک کوک ٹیم پیش کرتے ہیں تو آپ ایک بیداری دیکھتے ہیں۔۔۔لوگوں کو نئی توانائی ملتی ہے۔طلبہ ان کی چیلنجز کو ایک نئی روشنی میں دیکھنے اور نئے حل نکالنے میں مدد دیتے ہیں۔ان کا جوش اور توانائی بہت تیزی سے پھیلتی ہے’’۔