چوبیس سال کی عمر میں ریچل برجر ایڈورٹائزنگ ریسرچ میں کام کر رہی تھی اور کئی نوآموز لوگوں کی طرح اپنے ماں باپ کے گھر رہ رہی تھی۔اس کی تنخواہ بتیس ہزار پانچ سو ڈالر تھی اور ہر چیک کا آدھا حصہ اس کے طالبعملی کے دور کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے استعمال ہوتا تھا۔

اس کی کمپنی نے اس سے چھ ماہ بعد ‘‘بھاری اضافے’’ کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں اسے پتا چلا کہ اس ‘‘بھاری’’ کا مطلب صرف یہ تھا کہ دوہزار ڈالر سالانہ اضافہ۔برجرنے ادھر ادھر تلاش شروع کی۔اس نے گلاس ڈور پر اپنے علاقے میں اچھی ریٹنگ والی کمپنیوں کی تلاش شروع کی اور ان کمپنیوں کو مارک کر لیا جن کے ملازمین نے ان کےمتعلق اچھی رائے دی تھی اور پھر اس نے ہر کمپنی کو ایک مخصوص سی وی بنا کر بھیجا۔اس نے مانسٹر پر بھی اپنا سی وی پوسٹ کر دیا اور ایک ریکروٹر نے اس کا سی وی دیکھنے کے بعد اسے ایک سافٹ ویئر کمپنی میں بھیج دیا جن کے پاس اس کیلئے لکھنے کے حوالے سے ایک کام تھا جس کیلئے وہ سالانہ پینتالیس ہزار ڈالر دے رہے تھے۔
برجر کا پیشہ وارانہ طور پر لکھنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن اس نے فوربز اور واشنگٹن ٹائمز میں بلامعاوضہ کچھ کالم لکھے تھے اور اس نے انہیں بھی اپنے سی وی میں شامل کر لیا تھا۔سافٹ ویئر کمپنی نے اسے ملازمت کی پیشکش کر دی۔
یہ ایک بڑا قدم تھا لیکن برجر نے جن اور کمپنیوں میں سی وی بھیجے تھے وہاں سے اسے پچاس ہزار ڈالر یا اس سے بھی زیادہ کی پیشکش ہو رہی تھی۔
اس نے ان معلومات کو استعمال کرتے ہوئے سافٹ ویئر کمپنی کو مجبور کیا کہ وہ اسے باون ہزار ڈالر کی ملازمت دے اور پھر اس نے یہ ملازمت قبول کر لی اور آخر کار اپنے نئے گھر میں منتقل ہو گئی۔اس کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ چند سال مزید یہ ملازمت کر کے اپنی مہارت کو بہتر بنائے گی اور اگر موجودہ کمپنی نے اسے  اس کی خواہش کے مطابق اعلیٰ عہدہ نا دیا تو پھر وہ ملازمت کی تلاش کا کام دوبارہ شروع کردے گی۔
برجر نئے دور میں کیریئر کی شروعات کے نئے طریقوں کی مثال ہے۔یہ انیس سو ستر یا انیس سو اسی کی دہائی کی معیاری ہارڈویئر سٹور ماڈل جیسا دور نہیں ہے بلکہ ایک ڈی آئی وائے طرز کی سہولت ہے جس میں آپ اپنےمہارت کو بہتر بنانے کے بعد انٹرنیٹ کو اگلی سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اسے بیان کرنے کا ایک اور طریقہ ایک لیٹیس ہے۔یہ تجویز ہے جونا کلیور کی جنہوں نے دا کیریئر لیٹیس لکھا ہے۔
کلیور کا کہنا ہے ‘‘عام طور پر کیریئر کو آگے بڑھانے کیلئے سیڑھی کی اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے۔یہ بالکل عموی ہوتی ہے جس میں آپ ایک وقت میں ایک ہی پائے پر قدم رکھ سکتے ہیں اور صرف اسی وقت اوپر جا سکتے ہیں جب آپ کے اوپر والا بھی اوپر جائے’’۔انہوں نے مزید کہا ‘‘جبکہ لیٹیس ایک جنگل جم کی طرح ہے۔جس میں آپ کے پاس ایسے راڈز ہوتے ہیں جن سے آپ کسی چیز کو پھلانگ بھی سکتے ہیں اور اوپر بھی جا سکتے ہیں۔ہر لمحہ آپ ایک ہی وقت میں کئی چالیں چل سکتے ہیں’’۔
نوجوان نسل جنگل جم اور ڈی آئی وائے آلات کی طرف ہی کیوں جاتی ہے اور اس سیڑھی والے اصول کی پیروی کیوں نہیں کرتی جس نے پرانی نسلوں کو بھی فائدہ پہنچایا ہے؟
اگرچہ حکومتی اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان کارکن ہمیشہ ایک ملازمت سے دوسری ملازمت اختیار کرتے رہتے ہیں لیکن تلاش کرنے کے طریقے بدل گئے ہیں۔جب انٹرنیٹ پر صرف ایک کلک سے بے شمار پیشکشیں سامنے آ جائیں تو صرف اپنی کمپنی میں رہ کر ملازمت کا انتظار کرنا مشکل ہے۔۔
اس کے علاوہ کئی مالکان نے اب پنشن پلان اور دیگر فوائد دینا بھی چھوڑ دیئے ہیں جو کبھی ملازمین کی وفاداری کو کنٹرول کے آزمودہ نسخے ہوا کرتے تھے۔یہ کہنا ہے رائن ہنٹ کا جو کیریئر بلڈر کے سینئر ایڈوائزر ہیں۔اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مہارت جیسا کہ انتہائی جدید پروگرامنگ لینگوئج وغیرہ کیلئے مالکان ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنےکیلئے زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں کیونکہ ٹیلنٹ کی تلاش کیلئے مقابلہ انتہائی سخت ہے اور اس کا نتیجہ اکثر یہ نکلتا ہے کہ نوجوان کارکن آگے بڑھنے کیلئے ایک کمپنی سے دوسری کمپنی میں جاتے رہتے ہیں۔
ایک اور معاملہ یہ ہے کہ روایتی سیڑھ کے چند ہی پائے ہوتے ہیں۔کساد بازاری کے دوران بہت سی کمپنیوں نے درمیانے درجے کی مینجمنٹ پوزیشنز کو ختم کر دیا اور پھر انہیں بحال نہیں کیا۔کلیور کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پرانی نسل نے جسے ا سکے ریٹائرمنٹ کے مالی اہداف سے محروم کر دیا گیا تھا فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ملازمت جاری رکھے گی جس سے نئے کارکنوں کیلئے ان کی جگہ لینے کے مواقع کم ہوتے گئے۔
کلیور کے مطابق وہ نوجوان جو اپنی ملازمتوں میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی کیریئر لیٹس بنانے کیلئے اپنی مہارت کی تین ‘‘بالٹیاں’’ تیار کریں۔
1.   
ٹیکنیکل مہارت۔اگر آپ آپریشنز یا مینجمنٹ میں جانا چاہتے ہیں تو یہ سیکھنا لازمی ہے کہ بجٹ کو کیسے چلانا ہے۔اگر آپ کی کمپنی کا مالک فیس نہیں بھی دیتا تو خود سے اکاؤنٹنگ کی کلاس لیں۔صرف یہ ظاہر کرنا کہ آپ کو سپریڈ شیٹ پڑھنا آتی ہے اور آپ بغیر وضاحت کے فنانشل اصلاحات کو خود ہی سمجھ لیتے ہیں آپ کو میٹنگز میں بہت فائدہ دے گا۔
کلیور کا کہنا ہے حتیٰ کہ نان ٹیکنیکل لوگوں کو بھی ٹیکنیکل مہارت حاصل کرنی چاہیے۔جو کوئی ٹیکنالوجی سے متعلقہ کمپنی میں کام کرتا ہے اسے اپنے اردگرد جاری کام کو سمجھنے کیلئے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی بنیادی باتیں سیکھنی چاہئیں۔اس سے آپ کی اپنی کمپنی کے اندر بھی ساکھ بنتی ہے اور اگلی ملازمت کیلئے انٹرویو میں بھی بہتری ہوتی ہے۔
2.   
لیڈرشپ۔یہ ایک اور اہم خوبی ہے جسے کمپنی مالکان پروموشن کیلئے ضروری سمجھتے ہیں۔یہ ان نوجوانوں کیلئے پریشان کن ہو سکتی ہے جنہیں ابھی تک نگرانی کا کام نہیں دیا گیا ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ آپ رضاکارانہ طور پر ایسا کریں۔آپ اپنے کام میں کسی ٹیم کی قیادت کرنے کی پیشکش کریں اور اگر اس میں ناکامی ہو تو باہر دیکھیں۔اپنے چرچ کیلئے فنڈ جمع کرنے کی مہم کے انچارج بن جائیں یا کسی رضاکارانہ کمیٹی میں شامل ہو جائیں جہاں آپ بورڈ کے ممبر بن سکیں۔یہ چیزیں صرف آپ کے سی وی میں اضافہ کرنے کے کام نہیں آئیں گی بلکہ آپ قیمتی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔
3.   
کاروباری مہارت۔ایسی پروموشن کا انتظار کرنے کی بجائے جو کبھی نہیں آتی آپ اپنی کاروباری مہارت پیدا کریں۔یہ بات سیکھیں کہ آپ کی کمپنی کیسے پیسہ بناتی ہے اور اسے کن چیزوں سے فائدہ پہنچتا ہے۔اگر یہ بڑی کمپنی ہے تو اس کی ویب سائٹ پر جائیں اور انویسٹر ریلیشنز سیکشن میں پڑھیں کہ کمپنی دنیا کو اپنے متعلق کیا بتانا چاہتی ہے۔ٹریڈ پریس کو پڑھیں تاکہ آپ کو پتا چلے کہ دوسرے لوگ کمپنی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔پتا چلائیں کہ آپ کی کمپنی کانفرنسوں میں کیا پیش کرتی ہے۔شاید آپ کا عہدہ آپ کو ان کانفرنسوں میں شمولیت کی اجازت نا دے لیکن آپ پریزنٹیشنز کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
ایک مرتبہ آپ کو ایک کمپنی کے مقاصد کے متعلق گہری معلومات ہو جائیں تو خود سے ایک پایہ تشکیل دیں اور اس تک پہنچنےمیں اس کمپنی کی مدد کریں یا پھر اسے اس کے قریب لے جائیں۔اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ نے جو کچھ کیا ہے اس کا علم آپ کے مینجرز کو بھی ہو جائے۔
کلیور کا کہنا ہے کہ ‘‘یہ کوئی کمزور عمل نہیں ہے۔اگر آپ اپنے مواقع ظاہر کرتے ہیں، مطلوبہ مہارت اور تجربہ حاصل کرتے ہیں اور نتائج دیتے ہیں تو ہائرنگ مینجرز ضرور آپ کا نوٹس لیں گے۔بس آپ کو شروع میں ہی کامیابیاں حاصل کر کے دکھانا ہوں گی’’۔
لیکن اگر پھر بھی آپ کی موجودہ کمپنی آپ کے تجربات سے فائدہ نا اٹھانا چاہے تو آپ ایک ایسی کمپنی تلاش کریں جو آپ سے استفادہ کرے۔