اس فروری میں کوکاکولا پاکستان نے مقابلے کے آخری طاقتور شعبے کو بھی موثر طور سے ہائی جیک کر لیا یعنی کرکٹ کو۔اور اس مقصد کیلئے اس نے اس سال کی شروعات کرکٹ پر مبنی مہم سے کی جس کا نام تھا ’’پھر سے گیم اٹھا دیں‘‘۔یہ کثیرالجہتی اور کئی معاملات میں سرگرم مہم آئی سی سی ورلڈ کپ دوہزار پندرہ تک جاری رہی اور اسے مداحوں تک اپروچ کی اسی پالیسی کے تحت چلایا گیا تھا جو ماضی میں بھی کوک کا خاصہ رہی ہے۔

اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ یہ ٹورنامنٹ آسٹریلیا میں ہو رہا تھا جہاں پاکستان نے اپنا واحد ورلڈ کپ جیتا تھا کوک نے اس یقین کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی جو قوم میں انیس سو بانوے میں پیدا ہوا تھا اور اسی یقین کو آج کے نوجوانوں تک موثر طریقے سے پہنچایا۔
انیس سو بانوے کی ورلڈکپ ٹیم کے کھلاڑیوں کے لباس، کھلاڑیوں اور تصورات کے علاوہ ایک چیز جو ہر پاکستانی کے دل و دماغ میں گونج رہی تھی  وہ یہ گیت تھا ’’دا ورلڈ از کمنگ ڈاؤن دا فلیگز آر اپ‘‘۔
جب کبھی بھی یہ گیت گونجتا ہے تو یہ اس دور کی خوشگوار یادوں اور امیدوں کو جگاتا ہے اور ایک ایسا احساس پیدا کرتا ہے جو ٹورنامنٹ کے شروع میں ٹیم کے ساتھ وابستہ نہیں تھا۔
کوکاکولا نے اس امید کو ایک مرتبہ پھر جگانے کی کوشش کی اور اس کیلئے اس گانے کا نیا تصور پیش کیا۔ہم نے کرکٹ سے وابستہ جذبات کو پاکستان کے سب سے بڑے موسیقی کے اثاثے کوک سٹوڈیو کے ذریعے اجاگر کیا۔
ٹی وی سی جس نے یہ مہم شروع کی اس میں کوک سٹوڈیو سیزن سات کے بہت سے فنکار شامل تھے جس کے ساتھ ایک سابق کرکٹر، ٹی وی شخصیات اور پاکستانی نوجوان بھی شامل تھے اور اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ جب کبھی بھی پاکستانی ٹیم کھیلتی ہے تو ہر کوئی اس کا مداح ہوتا ہے۔
مرکزی خیال کو ایک معیاری دورانیے کی میوزک ویڈیو کے ساتھ شامل کیا گیا اور اسے کوک سٹوڈیو اور کوکاکولا کے پلیٹ فارمز سے ایک ساتھ لانچ کیا گیا اور اسے انٹرنیٹ پر پینتیس لاکھ لوگوں نے دیکھا اور یہ پاکستان کا ’غیرسرکاری‘ کرکٹ ترانہ بن گیا باوجود یہ کہ اسے ٹیم کے سرکاری سپانسر کی طرف سے مقابلے کا سامنا تھا پھر بھی یہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سٹیڈیمز اور ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم کا ’غیرسرکاری‘ ترانہ بنا رہا۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ فیس بک پر ہر چار میں سے ایک صارف نے ہماری کرکٹ کی مہم کا متن دیکھا۔
کوکاکولا پاکستان کے جنرل مینجر رضوان اللہ خان نے اس مہم کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ’’پاکستانی شناخت ثقافتی حب الوطنی کی کہانی اور جذباتی ہم آہنگی کرکٹ کے ساتھ بہت گہرائی سےوابستہ ہے۔لہٰذا یہ ایک فطری چیز تھی کہ انیس سو بانوے کی فتح پرمبنی ایک مہم چلائی جائے تاکہ پاکستانیوں کے مابین امید کو فروغ دیا جا سکے‘‘۔
اس تخلیقی آئیڈیے کی کامیابی کو اس طرح سے یقینی بنایا گیا کہ اس ہم کوبہت سی جگہوں سے شروع کیا گیا یعنی ٹی وی، ریڈیو، آؤٹ ڈور، کنزیومر ایکٹیویشن، ٹریڈ ایکٹیویشن اور پیکیجنگ جبکہ لوگوں کو اس میں شامل کرنے اور اس میں اپنا ردعمل دینے اور حقیقی متن تیار کرنے کیلئے ڈیجیٹل پر توجہ دی گئی۔
ورلڈ کپ دوہزار چودہ کی مہم سے سیکھی گئی باتوں کو استعمال کرتے ہوئے کوکاکولا پاکستان نے کوک سٹوڈیو کے گیت کو کانٹینٹ سکواڈ کی مدد سے صارفین کے تیار کردہ گیتوں اور ویڈیوز کے ساتھ ملا دیا جو ٹیم کے کوارٹرفائنل کی طرف بڑھتے قدموں کے ساتھ پاکستانی قوم کے جذبات کی عکاسی کر رہے تھے۔
سماجی فیڈ بیک پر توجہ دے کر کوکاکولا پاکستان نے انٹرنیٹ پر مقبول تمام رجحانات پر اپنی چھاپ لگا دی۔۔۔جو کہ اس گانے کے آخری گیت میں بھی نظر آئے جس میں ’’جسٹن بیبیوں‘‘ کو شامل کیا گیا تھا‘‘۔
اپ لوڈ ہونے کے ایک دن کے اندر ہی اسے اڑھائی لاکھ لوگوں نے دیکھا، یہ گیت کواٹرفائنل سے دو روز پہلے ریلیز کیا گیا تھا اور اسے کئی بڑے چینلز اور اخبارات جیسا کہ بی بی سی، سی این این اور دا ٹریبیون نے کوریج دی اور سرحد پار بھارت میں بھی اسے سراہا گیا۔
پھر سے ہیش ٹیگ گیم اٹھا دیں جسے ورلڈ کپ کا ترانہ بھی کہا گیا وہ موثر طور ٹورنامنٹ کا سرکاری ’غیرسرکاری‘ ہیش ٹیگ بن گیا۔اس نے نیٹ پر بحث و مباحثہ شروع کرا دیا اور اس مہم کے دوران دو لاکھ چالیس ہزار طلبہ نے اس پر اپنی پوسٹس کیں جس میں ان کی اپنے گھروالوں اور دوستوں کے ساتھ کرکٹ دیکھتے ہوئے تصاویر بھی شامل تھیں۔جس سے کوک کی مداحوں پر مبنی اپروچ کی مزید عکاسی ہوتی ہے۔
علی اکبر ڈائریکٹر مارکیٹنگ کوکا کولا کہتے ہیں ’’پاکستانیوں کیلئے کرکٹ ان چند پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے جو ایک منقسم قوم کو متحد کرتی ہے۔اس مہم کے ذریعے کوک نے موسیقی اور کرکٹ کو استعمال کر کے امید اور اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی۔اگرچہ ہم ورلڈ کپ نہیں جیتے لیکن اس مہم نے لوگوں کو کامیابی سے متحد کیا اور پاکستانی کرکٹ میں دوبارہ امید پیدا کی۔۔۔جو کہ ہماری نظروں میں بذات خود ایک کامیابی تھی‘‘۔
ایک مضبوط تجارتی سرگرم پلان اور مساوات پیدا کرنے کے اقدامات کے ذریعے پھر سے گیم اٹھا دیں گے نے موثر طور پر دکھایا کہ کیسے ایک ایسی جگہ میں اپنا اثر چھوڑا جا سکتا ہے جس پر مقابلے بازی کا غلبہ ہو۔