لاہور، 30 مئی، 2016۔ کوکا۔کولا پاکستان نے کراچی اور نوشہرہ میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے شمسی توانائی سے چلنے والے سات واٹر فلٹریشن پلانٹس کے لئے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ کوکا۔کولا کی جانب سے یہ تعاون اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ساتھ نیو ورلڈ پروگرام کے تحت کیا جارہا ہے جس کا اعلان جنوبی کوریا کے شہر سیول میں منعقد ہونے والے روٹری انٹرنیشنل کنونش 2016 میں کیا گیا۔ کوکا۔کولا کمپنی کی روٹری انٹرنیشنل، پاکستان نیشنل پولیو پلس کمیٹی کے ساتھ 2012 سے شراکت داری ہے جس کا مشن یہ ہے کہ پاکستان میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ذریعے مضر صحت پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا خاتمہ کیا جائے۔ 

ان فلٹریشن پلانٹس سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد مستفید ہوں گے۔ ہر پلانٹ ایک دن میں دو بار 3 ہزار گیلن پانی فراہم کرتا ہے۔ اس سے قبل کراچی کے علاقے ملیر میں سال 2014 میں نصب شدہ ریورس آسموسز پلانٹ کے ذریعے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو 70 فیصد تک روکنے میں مدد ملی۔

پینے کے صاف پانی کی آسان تر رسائی کی فراہمی سے شرح اموات میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے اور معیار زندگی میں بہتری آتی ہے۔ اس کے ذریعے خواتین کے وقت کی بھی بچت ہوتی ہے جو اس سے قبل دور دراز کے علاقوں سے پانی لانے کی وجہ سے ضائع ہوجاتا تھا۔ صحت اور طبی تعلیم کے حوالے سے آگہی مہم کے ساتھ بیماریوں میں کمی کے نتیجے میں اہل خانہ کے علاج کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

کوکا۔کولا اور روٹری کے درمیان یہ شراکت داری کمپنی کی کاروباری سماجی ذمہ داری کی حکمت عملی کے ساتھ منسلک ہے تاکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ذریعے لوگوں کی دیکھ بھال میں اضافہ لایا جائے۔ سیول میں روٹری انٹرنیشنل کنونش کے دوران اس شراکت داری پر کوکا۔کولا ایکسپورٹ کارپوریشن برائے پاکستان و افغانستان کے ڈائریکٹر پبلک افیئرز اینڈ کمیونکیشنز فہد قادر نے بتایا، "یہ ہمارے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ پاکستان دنیا میں پولیو کے خطرے سے دو چار اولین دو ملکوں میں بدستور شامل ہے۔ اس لئے سماجی طور پر ذمہ دار شہری کے طور پر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ روٹری پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مضر صحت پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اپنا تعاون فراہم کریں۔ پاکستان کی فلاح و بہبود کے گہرے عزم کے ساتھ یہ ہماری روایات ہیں کہ کم سے کم سطح کی پائیدار ترقی کے ذریعے مشترکہ اہمیت پیدا کی جائے جس کا ہماری قوم کی صحت پر دارومدار ہے۔ "

اس شراکت داری کے بارے میں روٹری پاکستان نیشنل پولیو پلس کے نیشنل چیئر عزیز میمن نے کہا، "پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے روٹری کی کاوشوں میں تعاون کرنے پر میں کوکا۔کولا پاکستان کی حوصلہ افزائی کا مشکورہوں۔ پاکستان کے تین مقامات کراچی، پشاور اور قلعہ عبداللہ میں پانی سے پھیلنے والی مختلف بیماریاں بدستور موجود ہیں۔ ہمیں لازمی اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بھی بچہ صاف پانی سے محروم نہ رہے اور اس کا بھرپور طور پر احاطہ کیا جائے۔ اب تک پاکستان میں پولیو کے 10 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ سال 14 کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ سال 2016 میں متعین علاقوں تک پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی جدوجہد کا موقع ہے جسے ہم ضائع نہیں کرسکتے۔ "