کوکاکولا پاکستان نے آج ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر نتھیا گلی میں ایوبیہ نشینل پارک کے نیچر ٹرپ کا اہتمام کیا۔

اور اس سرگرمی کو کوکاکولا کی لائنوں والی بوتل کی ایک صدی پوری ہونے پر سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کے ساتھ شامل کر دیا۔اس نیچر ٹرپ میں کوکاکولا نے ایک سو افراد کی میزبانی کی۔
اس ٹرپ کے شرکا میں سوشل میڈیا کے کارکن، میڈیا کے نمائندے، ماحولیات کے ماہرین اور فطرت سے محبت رکھنے والے لوگوں کے ساتھ سول سوسائٹی کے اراکین کی بہت بڑی تعداد بھی تھی۔
ایک سو افراد کے اس گروپ کووہ واٹرشیڈ دکھانے کیلئے لے جایا گیا تھا جس کے پراجیکٹ پر کوکاکولا کمپنی گزشتہ چھ برسوں سے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تعاون سے کام کررہی ہے۔
یہ بڑا پراجیکٹ ایک ایسا جامع منصوبہ ہے جو پہلے ہی کئی مثبت نتائج حاصل کر چکا ہے۔
ان نتائج میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران تین سو اٹھاسی ملین لیٹر پانی کا اضافہ، ساٹھ ہزار سے زائد مقامی درخت اگانا اور پندرہ ہزار سے زائد پھلوں کے درخت اگانا شامل ہے۔اس کے علاوہ پھلوں کی سینکڑوں باغات لگائے گئے ہیں جن سے مقامی آبادیوں کو روزگار مل رہا ہے اور ایک سو سے زائد سکولوں میں بارش کے پانی سے کھیتی باڑی کا سٹرکچر تیار کیا گیا۔چھتوں پر کاشتکاری کے ذریعے دس لاکھ لیٹر سے زیادہ پانی کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ پراجیکٹ کے علاقے میں چبھیس قدرتی چشموں کو بھی نئی زندگی ملتی ہے۔
نتھیا گلی پہنچنے پر اس گروپ کو پہلے واٹرشیڈ مینجمنٹ پراجیکٹ پر ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ٹیم کی طرف سے پریزینٹیشن دی گئی جس کے بعد شرکا کو مختلف پراجیکٹ سائٹس پر لے جایا گیا۔اس کے بعد ڈونگا گلی میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینٹر کا دورہ بھی کیا گیا اور اگلے مرحلے میں شرکا ڈونگا گلی سے ایوبیہ تک پائپ لائن ٹریک پر نیچر واک بھیی کرتے رہے۔
کوکاکولا پاکستان کے ڈرائریکٹر پبلک افیئرز اور کمیونیکیشنز فہد قادری کہتے ہیں ’’ایوبیہ نیشنل پارک میں ہمارا پراجیکٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ کوکاکولا منصوبوں کو عملی جامہ پہناتی ہے خاص طورپر جب بات ماحولیاتی تحفظ کی ہو‘‘۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’جو چیز اصل میں اہم ہے وہ یہ ہے کہ پراجیکٹ کے فوائد سب سے پہلے مقامی آبادی تک پہنچائے گئے ہیں جبکہ قدرتی چشموں اور زیرزمین پانی کی بحالی سے ایک بڑے علاقے کوطویل مدتی فوائد ملیں گے‘‘۔