کوکاکولا جرنی سٹاف کی کوکاکولا ایکسپورٹ فاؤنڈیشن پاکستان اور افغانستان کے جنرل مینجر رضوان اللہ خان سے بات چیت۔ 

موسیقی اور مذہب نے ہمیشہ ایک دوسرے میں اپنا مطلب تلاش کیا ہے اوربرصغیراس ملاپ کیلئے بہت اچھی جگہ ثابت ہوا ہے۔یہاں کی موسیقی فطرت،مذہب، کلچر اور ہماری تاریخ سے متاثر ہے۔کوک سٹوڈیو کا تصور دوہزار آٹھ میں پاکستان میں سامنے آیا جہاں یہ فوری طور پر یہ ایک ادارہ بن گیا جس نے ایک ایسی انٹرنیشنل فرنچائز کی داغ بیل ڈالی جس کی بنیاد موسیقی اور کلچر کے انضمام میں پوشیدہ تھی۔یہ فارمیٹ جو حال ہی میں بھارت، مشرق وسطیٰ اور حال ہی میں افریقہ تک پھیلایا گیا ہے اس میں پاکستانی موسیقی کے بہت سے اثرات ہیں جن میں مشرقی کلاسیکل اور لوک موسیقی سے لے کر حالیہ دور کے ہپ ہاپ کلچر، راک اور پاپ تک کئی اثرات شامل ہیں۔
جرنی پاکستان:اس مہم کیلئے موسیقی کو بنیادی ذریعے کے طور پر کیوں چنا گیا؟
رضوان اللہ خان: کارپوریشنز مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ قوم کے مختلف جذبات تک پہنچا جائے تاکہ ان کی مانگ میں اضافہ ہو لیکن وہ لوگوں کی زندگیوں کے وسیع تناظر سے تعلق رکھنے میں ناکام رہتی ہیں۔بہت زیادہ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں جوش پیدا کرنے والے دو عوامل کرکٹ اور موسیقی ہیں۔
چونکہ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی نوجوان ہے اس لئے کوکاکولا پاکستان نے یہ بات سمجھی کہ پاکستانی نوجوانوں کیلئے ایک ایسا اثاثہ تیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے ساتھ وہ اپنی شناخت جوڑ سکیں۔
ایک ایسا اثاثہ جو روایتی اقدار اور جدید کلچر کے درمیان کشیدگی کو کم کرے اور نوجوانوں میں جذبہ اور حب الوطنی پیدا کرے اور اس سے بھی بڑھ کر انہیں ایک ایسی سوچ مہیا کرے جسے وہ اپنانے کی کوشش کر سکیں۔
چونکہ ہماری پیرنٹ کمپنی کی موسیقی کے ساتھ طویل وابستگی رہی ہے اس لئے یہ طے کیا گیا کہ موسیقی کو ایک جذبے کے طور پر استعمال کیا جائے گا تاکہ کمپنی اور برانڈ کی پوزیشن کو مضبوط کر کے نوجوانوں کو اس میں شامل کیا جا سکے اور اس کے ساتھ پاکستنا میں کمپنی اور برانڈ کی محبت میں بھی اضافہ ہو سکے۔
موسیقی تو ایک وسیع میدان ہے، آپ اپنے صارفین سے منسلک ہونے میں کیسےکامیاب ہوتے ہیں؟
حتیٰ کہ موسیقی کی کیٹیگری میں بھی سوال یہ تھا کہ ’لوگوں کی زندگیوں کے وسیع تناظر سے کیسے ’رابطہ‘ قائم کیا جائے اور پھر ہی وہ اس میں منفرد طور پر ویلیو یا مطلب ڈال سکتے تھے‘۔
کوکاکولا کو اپنا جواب کوک سٹوڈیو کی شکل میں اپنے اثاثے کے قیام میں ملا جس نے خود کو اپنی ذات کے اظہار اور نوجوانوں کی سوچوں کے تصورات کے ذریے کےطور پر منوا لیا۔
کوک سٹوڈیو کا مقصد یہ ہے کہ وہ رنگ و نسل اور مذہب کی سرحدوں کوعبور کر کے اپنے صارفین کے ساتھ رابطہ قائم کرے اور تمام عمر، کلچر اور نظریات کے لوگوں کو موسیقی کی آفاقی زبان کے ذریعے متحد کرے اور ایسا اس نے موسیقی کی مختلف شکلوں کو ملا کر کرنے کا فیصلہ کیا۔
کیا آپ ہمیں اس عمل کے متعلق بتا سکتے ہیں؟
کوکاکولا نے ایک کثیرالجہتی حکمت عملی تیار کی جس کاسب سے اہم مقصد یہ تھا کہ جدید دورکے صارف کی شناخت ایک متحرک شخصیت کے طور پر ہو۔جو اپنے سماجی حالات اور ماحول میں مسلسل نئے حل تلاش کر رہے ہیں۔لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت کی تلاش میں ہیں۔
دوسرا یہ کہ ہم نے ایک طاقتوراور قیمتی اثاثہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا جو پاکستان میں موسیقی کی صنعت کو بحال کر کے صارفین کے اطمینان کا باعث ہو گا۔اور آخر میں اس کا مقصد ایک ایسا اثاثہ بنانا تھا جو صارفین کی زندگی کا لازمی حصہ بن جائے گا اور کوک برانڈ کے ساتھ ان کے تجربے کواور بڑھائے گا۔
 
کوک سٹوڈیو دوسرے میوزک پلیٹ فارمز سے مختلف کیسے ہے؟
کوک سٹوڈیو نے خود کو منوایا اور موسیقی کی اجتماعی دنیا میں ایک منفرد انفرادی جگہ پیدا کی اور یہ کام اس نے مختلف طرز کی موسیقی، زبانوں اور ثقافتوں کو ملا کر کیا۔
مشرقی اقدار کو مغربی اثرات کے ساتھ ملا کر کوک سٹوڈیو نے پاکستانی نواجونوں کو اپنے کلچر سے اس طریقے سے متعارف کرایا جو ان کیلئے مکمل طور پر قابل قبول ہے۔
انہیں ایسی زبانوں سے متعارف کرایا گیا جو انہوں نے کبھی نہیں سنی تھیں اور انہوں نے ایسے بول سنے جنہوں نے انہیں جذباتی اور دانشورانہ لحاظ سے ابھارا۔کوک سٹوڈیو نے پاکستانیوں کو اونرشپ،جذبات اور وقار کا ایک طاقتور احساس دیا ہے۔ایک اثاثے کے طور پر کوک سٹوڈیو امید کو فروغ دے کر رکاوٹوں کو ختم کرنے کا نام ہے اور کوکاکولا برانڈ کا بھی یہی نعرہ ہے۔۔۔اوپن ہیپی نس۔
آپ کے خیال میں کوک سٹوڈیو کی کامیابی کا بنیادی عنصر کون سا ہے؟
اگرچہ کوک سٹوڈیو کو جو داد مل رہی ہے وہ اس منفرد تصور کی وجہ سے ہے جس نے اس کی شروعات کرائی لیکن اس کے ساتھ جس طریقے سے ساتوں سیزنز کے دوران اس نے مختلف جہتوں کو چھوا ہے اس نے بھی اس کی مقبولیت اور کامیابی میں اضافہ کیا ہے۔
کوک سٹوڈیوبہت سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ کام کرنے کی اہم مثال ہے اور اس کی کامیابی ہمارے پچھلے پروڈیوسر روحیل حیات اور ہمارے موجودہ پروڈیوسرز سٹرنگز کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ڈیجیٹل میڈیا نے بلاشبہ اس کے سکوپ کو بڑھانے اور اسے بہت زیادہ سامعین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کوک سٹوڈیو کیلئے مستقبل میں آپ کے کیا منصوبے ہیں؟
ہم ابھی کوک سٹوڈیو کے عروج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اس اثاثے میں مستقبل کیلئے بھی بہت سی صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔یوٹیوب پر اس کے چینل پر اسے دس کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے جس میں سے اڑتالیس فیصد دیکھنے والے غیرملکی ہیں جبکہ اس کے چالیس لاکھ سے زائد فیس بک فینز بھی ہیں اور ہم ابھی اسے نئی بلندیوں اور منازل تک لے جا سکتے ہیں۔
ہر نئے سال نے اس مہم میں نئی جہت پیدا کی ہے۔آپ کو اس بات کا انتظار کرنا ہو گا کہ ہم آئندہ برس کیا لے کر آتے ہیں۔