کیا آپ کسی ایسے گھر میں رہنے کا تصو رکر سکتے ہیں جہاں آپ اپنے بچوں کیلئے بہتر زندگی کا خواب نا دیکھ سکیں؟ انتہائی غربت وہ اصطلاح ہے جو ڈیڑھ ڈالر روزانہ سے کم کمانے والوں پر لاگو ہوتی ہے۔ظاہری طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے گھر میں رہننا جو اگلے سیلاب میں تباہ ہونے کا منتظر ہے جہاں نلکے کے پانی تک رسائی نہیں ہے اور نا ہی آپ اپنے بچوں کو سکول بھیج سکتے ہیں جبکہ آپ ان کے یونیفارم اور کتابوں کا خرچہ بھی نہ اٹھا سکتے ہوں۔پاکستان کے کئی گھرانوں کی حقیقت یہی ہے۔ان گھروں کی دستیاب آمدنی سے صرف کھانے کا خرچ ہی چل سکتا ہے۔ 
کھانے کیلئے کم آمدنی کی وجہ سے بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔کئی معاملات میں خوراک کی کمی معذوری کا باعث بنتی ہے۔یہ کمی عام طور پر ساری زندگی کیلئے ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق کمزور تعمیر اورنوجوان میں بیماری کے خدشات سے ہوتا ہے۔ان گھروں میں کواتین کو سب سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے کیونکہ وہ اکثر اپنا کھانا دوسروں کیلئے چھوڑ دیتی ہیں اور گھر میں کمانے والے مرد بھی اکثر انہیں نظرانداز کرتے ہیں۔
اگر ان گھرانوں کی مدد نا کی گئی تو یہ کئی نسلوں تک اسی حالت میں رہیں گے۔تاہم جب ان کی مدد کی جاتی ہے تو ان کے معیار زندگی میں معجزانہ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔کشف مائیکروفنانس بینک انیس سو چھیانوے سے خواتین کی مدد کیلئے انہیں قرض دے رہا ہے۔اس کام میں اس کی مدد اس کے پارٹنر ادارے کرتے ہیں جن میں کوکاکولا پاکستان بھی شامل ہے جس کا ماننا ہے کہ خواتین گھروں میں سماجی و معاشی تبدیلی لانے کیلئے مرکزی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ 
فرزانہ اور ثمینہ وہ دو خواتین ہیں جنہوں نے کشف فاؤنڈیشن سے قرض لئے ہیں۔فرزانہ اپنے شوہر اور چار بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔قرض لینے سے پہلے ان کے شوہر بیروزگار تھے اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔فرزانہ نے کشف فاؤنڈیشن سے بیس ہزار روپے لے کر کڑھائی کا کاروبار شروع کیا۔
ثمینہ کی کہانی تھوڑی سی مختلف ہے۔اپنے کاروبار سے پہلے وہ اپنے بھائیوں اور بہنوں پر انحصار کرتی تھیں کیونکہ وہ غیرشادی شدہ تھیں اور ان کے والدین حیات نہیں تھے۔انہیں اس طریقے سے رہنا مشکل لگا۔انہوں نے پہلے سکول میں پڑھایا لیکن تنخواہ زیادہ نہیں تھی۔پھر وہ سٹیچنگ اور مصنوعی زیورات کے کام میں شامل ہو گئیں لیکن ان پر قرضہ چڑھ گیا۔کشف فاؤنڈیشن سے قرض لے کر انہوں نے اپنا کاروبار شروع کر لیا اور قرض ادا کرنے کے علاوہ اچھی آمدنی بھی حاصل کرنا شروع کر دی۔
جب قرض دیا جاتا ہے تو خواتین کو بنیادی مالی تربیت بھی دی جاتی ہے کہ انہیں کیسے اپنی کمائی کو محفوظ رکھنا ہے اور قرض دینے کے بعد ان کی مسلسل رہنمائی کی جاتی ہے۔قرض کی اس خاص قسم کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے مالی کے ساتھ سماجی ترقی کا بھی موقع ملتا ہے۔خواتین کو گروپوں میں تربیت دی جاتی ہے جو خاص طور پر ان خواتین کیلئے انتہائی اہم ہے جو زیادہ وقت گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں اور انہیں سوشل ہونے کا موقع نہیں ملتا۔کئی معاملات میں بہت سی خواتین کوگھروں میں مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن اس طریقہ کار سے انہیں نئے تعلقات بنانے کا موقع ملتا ہے اور بطور گروپ ان کا اپنی معاشی آزادی کیلئے اٹھائے گئے قدم پر اعتماد بھی بڑھ جاتا ہے۔
اس قرض کی دو اقسام ہیں: ’’ٹیئرون‘‘ پہلی مرتبہ گھر کے اندر چھوٹے پیمانے کے کاروبار کیلئے دیا جاتا ہے اور یہ مقامی دیہی آبادیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے جبکہ ’’ٹیئر ٹو‘‘ ان خواتین کی مدد کرتا ہے جو اپنے کاروبار کی طرف واپس آ رہی ہیں اور اس کیلئے انہیں تربیت دینے کے علاوہ مزید قرض دیئے جاتے ہیں۔
عام طور پر جو کاروبار شروع کئے جاتے ہیں ان میں دودھ کیلئے مویشیوں کی پرورش، سبزی کی دکان کھولنا،کڑھائی ی اسلائی کا کام اور حتیٰ کہ گاڑیاں ٹھیک کرنے والی دکان چلانا بھی شامل ہیں۔سن دوہزار تیرہ میں کوکاکولا فاؤنڈیشن کی مدد سے جو زیادہ تر قرض دیئے گئے وہ مویشی یا سلائی کیلئے مشینیں خریدنے پر خرچ ہوئے۔سن دوہزار تیرہ، چودہ میں کل تین سو گیارہ خواتین کی کوکاکولا فاؤنڈیشن کی گرانٹ سے مدد کی گئی۔ننانوے فیصد خواتین کی آمدنی میں اوسطاً پانچ ہزار روپے تک کا اضافہ ہوا۔
زیادہ مالی استحکام کی بدولت یہ گھرانے اپنے خاندانوں کیلئے بنیادی ضروریات کی فراہمی کے قابل ہو گئے ہیں۔کئی کلائنٹ اپنے کاروبار کو پھیلانے کیلئے واپس آئے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان خواتین کا اعتماد بڑھ رہاہے۔’’ٹیئر ٹو‘‘ کی کلائنٹس وہ کاروباری خواتین ہیں جو اپنا کاروبار پھیلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔قرض دینے سے پہلے کاروبار کو پھیلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔یہ قرض لینے والی ستر فیصد خواتین نے اب اپنے ملازمین رکھ لئے ہیں اور یوں دوسرے خاندانوں کی آمدنی کا بھی ذریعہ ہیں اور انتہائی ضروری روزگار پیدا کر رہی ہیں۔
ثمینہ اور فرزانہ دونوں کو امید ہے کہ وہ اپنا پہلا قرض واپس کرنے کے بعد ’ٹائیر ٹو‘ قرض حاصل کر پائیں گی۔خواتین کو قسطوں میں قرض واپس کرنے میں آسانی مل رہی ہے اور وہ اپنا کاروبار مزید پھیلانا چاہتی ہیں۔اس وقت فرزانہ کی ماہانہ آمدنی پندرہ ہزار روپے ہے۔وہ اپنے گھر کیلئے پانچ ہزار روپے رکھتی ہے اور باقی رقم کو واپس اپنے کاروبار میں لگا دیتی ہے۔اسے امید ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو اگلے قرض کے ساتھ مزید پھیلائے گی۔ثمینہ کے بھی ایسے ہی خیالات ہیں۔
مائیکروفنانس کے تصور نے ان دونوں خواتین کو اپنے خاندانوں میں عزت حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔ثمینہ کہتی ہیں ’’میرا خیال ہے کہ ایک خاتون اپنے ارادوں کی پکی ہوتی ہے اور اگر وہ کچھ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ ایسا اچھی طرح کر سکتی ہے‘‘۔ان دونوں خواتین نے دکھایا ہے کہ اگر انہیں تھوڑی سی رہنمائی اور مدد ملے تو وہ کیسے اپنی خواہشات کو پورا کر سکتی ہیں۔،کشف فاؤنڈیشن کی کوکاکولا سے پارٹنرشپ اس امر کی صرف ایک مثال ہے کہ کیسے کاروبار سے زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔