2010 کے تباہ کن سیلاب کے دوران ضلع مظفر گڑھ کا بہت بڑا زرعی علاقہ بری طرح متاثر ہوا۔ کھلکھلاتے کھیت اور بنیادی ڈھانچہ سمیت تقریبا سب کچھ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ۔ کاروباری شعبے میں کوکا۔کولا پاکستان ان اولین اداروں میں شامل ہے جس نے دس لاکھ ڈالر کے عطیہ کا اعلان کرکے امدادی اور بحالی کے کاموں کا آغاز کیا۔ اس بنیاد پر علاقے کے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لئے کوکا۔کولا پاکستان نے ایک بالکل نئے پرائمری اسکول کے قیام کے لئے دی سٹیزن فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) کے ساتھ شراکت داری قائم کی ۔ دی سٹیزن فاؤنڈیشن باقاعدہ تعلیم فراہم کرنے والے صف اول اداروں میں سے ایک اور معروف غیر منافع بخش ادارہ ہے جس نے پورے پاکستان میں 1060 اسکول یونٹس تعمیر کرائے اور یہاں 165000 سے زائد طالب علم زیر تعلیم ہیں۔

کوکا۔کولا کی اسپانسرشپ صرف اسکول کی عمارت کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ اس معاہدے میں پانچ سال تک اسکے اخراجات کی ذمہ داری اٹھانا بھی شامل ہے۔ اس شراکت داری کا پائیدار پہلو دو اہم تجاویز میں پوشیدہ ہے؛ یہ تعلیمی مہارت میں معاونت کرتے ہوئے کوکا۔کولا کے 2020 کے وژن "ہم" کے لئے تعاون کرتا ہے اور طالب علموں میں استعداد پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کے ذمہ دار شہری بن سکیں۔

ٹی سی ایف کے ساتھ مظفر گڑھ میں کامیاب شراکت داری کی روشنی میں اب اس اشتراک کو پنجاب کے ضلع قصور میں اسکول کی نئی عمارت تعمیر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں کوکا۔کولا کی مشرق وسطیٰ  اور شمالی افریقہ کے بزنس یونٹ کی پبلک افیئرز ایند کمیونکیشنز کی ڈائریکٹر جناب کیتھرین کیسن کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دوسرے اسکول کی اراضی پرکمپنی کے تعاون سے ایک افتتاحی تقریب منعقد ہوئی ۔ اس تقریب میں ان کے ہمراہ دی سیٹیزن فاؤنڈیشن کے نائب صدر ان پٹس جناب ضیاء عباس، کوکا۔کولا پاکستان اور افغانستان کے جنرل منیجر جناب رضوان اللہ خان اور کوکا۔کولا پاکستان اور افغانستان کے ڈائریکٹر پبلک افیئرز اینڈ کمیونکیشنز جناب فہد قادر بھی تھے۔

 

اوائل نومبر 2015 میں دی کوکا۔کولا فاؤنڈیشن کی جانب سے دوسرے ٹی سی ایف اسکول کوکا کولا کیمپس کی تعمیر کی درخواست 1,50,000 ڈالر کے عطیے کی یقین دہانی کے ساتھ منظور کی گئی ۔ سنگ بنیاد کی تقریب میں جناب رضوان اللہ خان نے کہا: "کوکا۔کولا پاکستان اور ٹی سی ایف نے پاکستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں اعلی تعلیم کو فروغ دینے کی غرض سے دوبارہ ایک دوسرے کے ساتھ  تعاون کے لئے شراکت داری میں توسیع کی ہے۔ کوکا کولا کے پائیدار پروگرام میں تعلیم ہمیشہ سے بنیادی مقصد رہا ہے کیونکہ یہ مجموعی طور پر معاشرے کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہے۔ ہماری نوجوان نسل آئندہ نسلوں کی علمبردار ہے، اس لئے سماجی طور پر ذمہ دار کاروباری شہری ہونے کے طور پر یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ٹی سی ایف کی جانب سے نوجوانوں کو پروان چڑھانے کے لئے بنیاد فراہم کرنے کی کاوشوں کے لئے تعاون کریں۔

اس موقع پر کیتھرین کیسن نے زور دیا: "معیاری تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرنے اور مستفید افراد کو روشن مستقبل کی یقین دہانی کرانے کی ضروت ہے۔ یہ کوکا کولا کی سب سے اہم ترجیح ہے کہ پائیداری کے اپنے ماڈل میں ہر نئے پروگرام کے ساتھ وسعت لائی جائے اورمستفید افراد کو یقین دلایا جائے کہ اس پروگرام کے بغیر بھی وہ مستحکم ترقی کی تعمیر اور بہتر معیار زندگی میں مہارت کے حصول کو جاری رکھ سکتے ہیں۔  کوکا۔کولا کے ہر منصوبے کا حتمی مقصد خود انحصاری حاصل کرنا ہے۔

آج پاکستان میں تقریبا 25 لاکھ بچےایسے ہیں جو فنڈز کی کمی اور تعلیم سے متعلق اہمیت نہ ہونے کے باعث اسکول جانے سے محروم ہیں۔ قصور میں ٹی سی ایف اور کوکا۔کولا کا کیمپس کا قیام پاکستان میں کوکا۔کولا کی جانب سے قائم ان بہت سی سنگ میلوں میں سے ایک ہے جو اس نے پورے پاکستان میں قائم کئے ہیں اور اس اسکول کا قیام بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس کے باعث لگاتار تین سال سے پاکستان میں سب سے معتبر کمپنی کے ایوارڈ کا جواز مستحکم ہوتا ہے(نیلسن رپورٹ) ، اور یہ پاکستانی خاندانوں اور بچوں میں تعلیم اور ان کے اندر مکمل ادراک لانے کے لئے شعور بیدار کر رہی ہے۔ کوکا۔کولا نے مستقل طور پر اس بات کا انتظام کیا ہے کہ ٹی سی ایف جیسے بڑے شراکت دار اداروں کے ذریعے لوگوں کی خدمت کرکے مقبولیت حاصل کی جائے اور نتیجہ خیز پائیدار پروگراموں کے ذریعے ان کے معیار زندگی میں بہتری لائی جائے۔