ماحولیاتی تبدیلی سے بہت سے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔جن میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس سے کئی ایسے مسائل کے اثرات بہت بڑھ سکتے ہیں جو ناپائیدار ترقی کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پاکستان کو پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا ہےاور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پانی کی قلت میں مزید اضافی ہو سکتا ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی زرعات کیلئے تازہ پانی کی سپلائی پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔

یہ پانی بارش اور پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں برف پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے۔پانی کا فطری نظام یہ ہے کہ یہ پہاڑوں سے بہتا ہوا میدانی علاقوں میں پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زرعی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے اور پھر کوٹری بیراج کے مقام پر سمندر میں جاگرتا ہے۔اگر پانی کے اس بہاؤ کا معیار، مقدار یا اس کے بہنے کی شرح متاثر ہو تو اس کا نچلے علاقوں میں تازہ پانی کے ذخائر پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ جب بغیر مصنوبہ بندی کے کئے جانے والے کام اور جنگلات کی کٹائی بھی شامل ہو جائے تو اس کا پاکستان کیلئے اثرتباہ کن ہو سکتا ہے۔شمالی علاقوں میں جنگلات میں بہت کمی آئی ہے۔اس کے ساتھ مٹی کی کوالٹی بھی خراب ہو گئی ہے اور کئی علاقوں میں تو بنجر پہاڑ ہی رہ گئے ہیں۔اس وجہ سے پانی کا بہاؤ متاثر ہوا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے اس پر اور بھی برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو روکنے کیلئے پاکستان کی نیشنل کلائمیٹ چینج سٹریٹجی میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’واٹر شیڈ مینجنمنٹ کو پروموٹ کیا جائے اور پہاڑی علاقوں میں ماحول کو محفوظ کرنے کیلئے کام کئے جائیں‘‘۔واٹر شیڈ مینجمنٹ ایکوسسٹم، آبادی اور معاشی ترقی کے درمیان توازن قائم کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زمین اور پانی پر موجود جانداروں کی ضروریات کا بھی خیال رکھتی ہے۔
واٹرمینجمنٹ کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔اس سے کسی علاقے کے بہت سے مسائل کی جڑوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔جنگلات کی کٹائی کی وجہ روزگار کا حصول یا گرم رہنے اور کھانا پکانے کیلئے ایندھن کا حصول۔یہ کئی محاذوں پراجتماعی ایکشن کا طریقہ کار طے کر سکتی ہے۔جن میں چیزوں کو محفوظ بنانے کا طریقہ کار،مقامی آبادی میں آگاہی پھیلانا اور اس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا، پولیسنگ اور گورننس اور متبادل ذرائع کو فروغ دینا وغیرہ شامل ہیں۔
ڈبلیوڈبلیو ایف۔پی نے کوکاکولا پاکستان سے مل کر سن دوہزار آٹھ میں
ایوبیہ نیشنل پارک میں واٹرشیڈ مینجمنٹ (آئی ڈبلیو ایم)شروع کیا۔ایوبیہ نشینل پارک خیبرپختوںخواہ کے علاقے گلیات میں تین ہزار تین سو بارہ ہیکٹرز پر پھیلا ہوا ہے اور مغربی ہمالیہ کا حصہ ہے۔ویسٹرن ہمالیہ کا پانی جمع کرنے والا علاقہ دریائے سندھ میں پانی کے ستر سے اسی فیصد بہاؤ کا ذمہ دارہے۔
اس سے پہلے لینڈ مینجمنٹ کی خرابی کی وجہ سے جنگلات کی کٹائی، پانی کی قلت اور سیلاب آنا شروع ہو گئے۔
پانی کے معاملے میں کوکاکولا کمپنی کے ماحولیاتی مقاصد میں تازہ پانی کے صحت مند اور پائیدار ذخائر کو یقینی بنانا ہے اور اس کیلئے کیلئے وہ ورلڈوائلڈ لائف فنڈ کے ساتھ مل کر دنیا کے گیارہ بڑے علاقوں میں ماحول کے تحفظ پر کام کر رہی ہے۔
ایوبیہ نیشنل پارک کا پراجیکٹ واٹرشیڈ کی بحالی کیلئے شروع کیا گیا تھا اور اسے قابل ذکر کامیابی ملی ہے۔
پراجیکٹ کے تحت کئے گئے کاموں نے دوبارہ جنگلات لگا کر اور مٹی کی بحالی کے ذریعے زمین کی سطح پر موجود پانی کو بحال کر دیا ہے۔زیادہ پودے لگانے اور زمین کی بحالی کی مختلف سرگرمیوں کی وجہ سے اس پراجیکٹ کے نتیجے میں بارش کا تین سو اٹھاسی ملین لیٹر پانی زیرزمین پانی میں شامل ہو گیا ہے۔اور اس نے ایک ہزار تین سو اکیاسی اعشاریہ چوہتر کیوبک میٹر سطح زمین کو محفوظ بنا کر مٹی کے ضیاع کو بھی روک دیا ہے۔
واٹرشیڈ مینجمنٹ میں ایک مربوط طریقہ کار کے نفاذ کیلئے زیادہ سٹیک ہولڈرز والی حکمت عملی کی ضرورت تھی۔اس پراجیکٹ میں بہت سے سٹیک ہولڈرز کام کر رہے ہیں جن میں کوکاکولا فاؤنڈیشن، کوکاکولا پاکستان، ڈبلیو ڈبلیو ایف، کمیونٹی آرگنائزیشن، حکومت، مذہبی رہنما، دانشور اور حتیٰ کہ سیاح بھی۔ہر سٹیک ہولڈر اس پراجیکٹ میں قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔
اس پراجیکٹ کی ریڑھ کی ہڈی کمیونٹی کو بااختیار بنانا ہے۔یہ کام آگاہی پھیلانے اور کمیونٹی کو متحرک کرنے کے ذریعے سرانجام دیا گیا ہے۔
یہ پراجیکٹ ایسے فورمز اور میٹنگز منعقد کرتا ہے جہاں یہ کمیونٹیز آپس میں مل کر ان ایشوز پر بات کرتی ہیں۔پراجیکٹ کے بہت سے کاموں کیلئے کمیونٹی سطح کی تنظیمیں بھی قائم کی گئی ہیں۔
دیہی اور خواتین کی تنظیموں میں اس پراجیکٹ کو اپنانے سے متعلق احساس کافی بلند ہے۔
جنگلات کی کٹائی کی وجوہات سے نمٹنے کیلئے کمیونٹی کے کئی ایشوز کو بھی سمجھا گیا ہے اور کمیونٹیز، حکومتی اداروں اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان تعلقات قائم کئے گئے ہیں۔
خواتین کا کردار اس پراجیکٹ کے حوالے سے بہت اہم ہے۔اس پراجیکٹ میں اس بات کو سمجھا گیا ہے کہ خواتین کو ان کی روزمرہ سرگرمیوں کے حوالے سے اس کام میں کیسے شامل کیا جائے۔خواتین روایتی طور پر زرعی کاموں، پانی لانے اور کھانا پکانے کیلئے لکڑیاں وغیرہ لاتی رہی ہیں۔بارش کے پانی سے زراعت، پانی کے پائپوں کی تنصیب اور کم ایندھن خرچ کرنے والے چولہوں کی وجہ سے خواتین پر بوجھ کم ہوا ہے اور ان کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔
اس پراجیکٹ کے دوران خواتین کی تنظیموں کی تربیت کی گئی ہے اور اب وہ خواتین کو کچن گارڈننگ، نرسریاں چلانے اور مرغیاں پالنے کی تربیت دے رہی ہیں جو کہ متبادل روزگار کا ذریعہ ہیں۔
ایوبینہ نیشنل پارک میں بہت سے سیاح آتے ہیں۔یہ اکثر اپنے پیچھے بہت زیادہ گندگی چھوڑ جاتے ہیں جسے اگر اکٹھا نا کیا جائے تو نا صرف یہ کہ اس سے صحت اور ماحول کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس سے اس پرکشش سیاحتی مقام کی خوبصورتی بھی ختم ہو جائے گی۔
حال ہی میں پراجیکٹ میں ’’سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلان‘‘ بھی شامل کر لیا گیا ہے جو گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی مدد سے بنایا گیا ہے۔،اب کوڑے کو ٹوکریوں میں جمع کیا جاتا ہے اور اسے ایبٹ آباد میں کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے پلانٹ پر بھیج دیا جاتا ہے۔
صحت میں بہتری کیلئے دیگر اہداف میں ان ندیوں کا تحفظ بھی شامل ہے جن سے پینے کیلئے پانی لیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ عمومی سینی ٹیشن کے کام بھی ہو رہے ہیں۔
 
تازہ پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جو گراس روٹ لیول تک جائے۔اس پراجیکٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس  پراجیکٹ کے اثرات پر تحقیق ہو۔ناصرف یہ کہ یہ پراجیکٹ اے این پی کے ایشوز کے حل اور ان کے اثرات کا پتا چلانے کیلئے اہم ہے بلکہ مجموعی طور پر ملک کیلئے بھی ضروری ہے جو اس ڈیٹا اکٹھا کر کے مستقبل میں واٹرمینجمنٹ کی پالیسی میں اس سے مدد لے سکتا ہے۔
کوکاکولا پاکستان کا ورلڈ لائف فنڈ کے ساتھ تعاون ظاہر کرتا ہے کہ کارپوریٹ تنظیموں کا مثبت کردار پائیدار ترقی میں مدد دے سکتا ہے۔طویل مدتی لحاظ سے یہ اقدامات ایسی سرمایہ کاری سمجھے جا سکتے ہیں جو سماجی اور ماحولیاتی ایشوز میں کی جا رہی ہے اور کل یہ معاشرے کارپوریٹ تنظیموں کے استعمال کیلئے اہم وسائل کو محفوظ رکھے گی۔
اس پراجیکٹ میں ظاہرہونے والی مربوط اپروچ کوکاکولا کمپنی اور معاشرے دونوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ مستقبل میں ماحولیاتی تبدیلیوں میں بہتر طریقے سے ڈھل سکیں۔