کوکاکولا کمپنی اپنے صارفین کو مشروبات میں زیادہ آپشنز دینے کے عزم پر قائم ہے جو ان کی ضروریات اور لائف سٹائل میں فٹ ہوں۔اس مقصد کیلئے دسمبر دوہزار گیارہ میں کوکا کولا کمپنی نے اوجان انڈسٹریز کے مشروبات کے کاروبار میں پارٹنرشپ کا اعلان کیا جو کہ برابری کی بنیاد پر تھا۔اوجان انڈسٹریز مشرق وسطیٰ کی مشروبات کی سب سے بڑی آزاد کمپنیوں میں سے ایک ہے۔
رانی فلوٹ ایک جوس ڈرنک ہے جس میں اصلی پھلوں کے ٹکڑے شامل ہوتے ہیں اور یہ اوجان کا سب سے بڑا برانڈ ہے اور مشرق وسطیٰ کا بھی سب سے بڑا جوس برانڈ ہے۔اسے تیس برس پہلے سعودی عرب میں لانچ کیا گیا تھا۔یہ منفرد ڈرنک مشرق وسطیٰ میں اور دیگر ایکسپورٹ مارکیٹس میں بہت فروخت ہوئی۔
دونوں کمپنیوں کے درمیان پارٹنرشپ نے رانی برانڈ کیلئے نئے عالمی مواقع کھول دیئے ہیں۔رانی نے ایک ماسٹر جوس برانڈ کی شکل اختیار کر لی جو بہت سی جوس پراڈکٹ لائنز پر پھیلی ہوئی تھی۔ایم ای این اے کی سوچ یہ تھی کہ رانی کو جوس ماسٹر برانڈ بنایا جائے۔اس سوچ کے تحت کوکاکولا ایکسپورٹ کارپوریشن پاکستان نے بھی اپنے موجودہ جوس برانڈ کو منٹ میڈ پلپی سے رانی پلپی میں تبدیل کرنے کیلئے ایک جارحانہ پالیسی تیار کی اور ا سکے ساتھ رانی فلوٹ کا کنٹرول سنبھال کر اسے پاکستان میں دوبارہ لانچ بھی کرنے کی منصوبہ بندی کی۔
رانی پلپی جو پہلے منٹ میڈ پلپی کہلاتی تھی اسے سن دوہزار آٹھ میں پاکستان میں لانچ کیا گیا اور یہ آرنج جے این ایس ڈی میں مارکیٹ لیڈر ہے جیسا کہ اے سی نیلسن ریٹیل آڈٹ دوہزار چودہ کے ڈیٹا میں بھی ظاہر ہے اور اس کے چالیس فیصد سے زائد سیگمنٹ شیئرز بھی ہیں۔رانی پلپی میں اصلی مالٹے کا گودا شامل ہے اور اس نے پاکستان میں جوس کا نیا رجحان متعارف کرایا یعنی پی ای ٹی پیکجنگ۔
رانی مشروب کو بھی پاکستان میں دس برس پہلے لانچ کیا گیا تھا اور اب اسے دوبارہ لانچ کیا جائے گا اور اسے کوکاکولا کمپنی کی مارکیٹنگ کی طاقت اور کوکاکولا بیورجرز پاکستان لمیٹڈ (سی سی بی پی ایل) کی ڈسٹری بیوشن کی طاقت کا فائدہ بھی ہو گا۔
رانی فلوٹ اور رانی پلپی کے اشتراک سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے پاکستان کی جوس مارکیٹ میں جوس ڈرنکس کے ایک نئے حصے کا اضافہ ہو جائے گا۔