کوک سٹوڈیو نے سن دوہزار سات میں اپنی شروعات کی اور اسے ایک سال بعد پاکستان میں اپنا لیا گیا اور یہاں موسیقی کو ملانے کے تصور کی ابتدا ہوئی جس نے نا صرف پاکستان میں پاپ کلچر کو بدل دیا بلکہ ایک عالمی فرنچائز کو بھی متاثر کیا۔
کوک سٹوڈیو کا روایتی اور جدید میوزک کو اکٹھا کرنا ہی اسے منفرد بناتا ہے۔جی ایم کوکاکولا پاکستان اور افغانستان رضوان خان کہتے ہیں ’موسیقی کی ایک نئی جہت شروع کر کے ہم پاکستان اور دنیا بھر میں لوگوں کی بے شمار نسلوں کو چھو رہے ہیں‘۔
کوکاکولا انڈیا نے ایم ٹی وی کے ساتھ مل کر سن دوہزار گیارہ میں اپنا کوک سٹوڈیو شروع کر لیا۔
کوک سٹوڈیو مڈل ایسٹ کا دوسرا سیزن چل رہا ہے اور اس میں عرب فنکاروں کے ساتھ عالمی فنکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔
کوک سٹودیو افریقہ جو کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ اور نائجیریا میں دکھایا جا رہا ہے وہ سن دوہزارتیرہ میں شروع ہوا تھا۔
چند سال پہلے ایم ٹی وی انڈیا کے ایک پروڈیوسر کو ایک پچھتر سالہ راجستھانی فنکارکے گیت کا یوٹیوب کلپ ملا جس کا نام ساون خان تھا جو ایک انتہائی خوبصورت دھن گنگنا رہے تھے۔
چنانچہ اس گلوکار کے درودراز گاؤں میں ایک ٹیلنٹ سکاؤٹ بھیجا گیا جس نے اس گلوکار کو پیشکش کی کہ وہ ایم ٹی وی کے تعاون سے لانچ کردہ نئے کوک سٹوڈیو میں شامل ہو جائے جس میں ملک کے موسیقی کے متنوع ورثے کو سراہنے کیلئے لائیو ٹی وی پرفارمنس دی جاتی تھی۔
ایم ٹی وی انڈیا کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ اور بزنس ہیڈ ادیتیا سوامی نے بتایا کہ ’’جب ہم اسے بمبئی کے سٹوڈیو میں لے کر آئے تو اس نے پہلے تو کہا کہ وہ گا نہیں سکتا کیونکہ وہ اس سے پہلے کبھی کسی ائرکنڈیشنڈ کمرے میں نہیں گیا تھا‘‘۔
لیکن آخر کار اس نے گانا گایا اوردیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔یہ گانا موسیقی کی مختلف اقسام کو جوڑ کر بنایا گیا تھا۔اس میں جدید دور کے راک گلوکار کلنٹن سریجو بھی شامل تھے اور گانے کے بول تھے ’’ساتھی سلام‘‘۔
سوامی کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں پتا چل گیا کہ ہم نے تفریح کا ایک بالکل نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے‘‘۔
رکاوٹوں کا خاتمہ
کوک سٹوڈیو نے سن دوہزار سات میں اپنی شروعات کی اور اسے ایک سال بعد پاکستان میں اپنا لیا گیا اور یہاں موسیقی کو ملانے کے تصور کی ابتدا ہوئی جس نے نا صرف پاکستان میں پاپ کلچر کو بدل دیا بلکہ ایک عالمی فرنچائز کو بھی متاثر کیا۔
یہ نیا فارمیٹ جو بھارت، مشرق وسطیٰ اور حال ہی میں افریقہ میں بھی چل چکا ہے اس میں پاکستانی موسیقی کے بہت سے اثرات چھپے ہوئے ہیں جس میں مشرقی کلاسیکل موسیقی سے لے کر لوک موسیقی اورموجودہ دور کا ہپ ہاپ، راک اور پاپ کلچر بھی شامل ہے۔
روایتی اور جدید موسیقی کے اس امتزاج نے کوک سٹوڈیو کو دوسرے برانڈڈ میوزیکل پروگراموں سے منفرد بنا دیا۔رضوان خان، جنرل مینجر کوکاکولا پاکستان اور افغانستان کہتے ہیں ’موسیقی کی ایک نئی جہت شروع کر کے ہم پاکستان اور دنیا بھر میں لوگوں کی بے شمار نسلوں کو چھو رہے ہیں‘۔
کوک سٹوڈیوز مشہور اور نئے ابھرتے ہوئے فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم دیتا ہے جہاں سے وہ قومی اور عالمی سامعین تک اپنی موسیقی پہہنچا سکتے ہیں۔ایک مشہور پاکستانی لوک فنکار عارف لوہار سن دوہزار دس میں اپنا ایک مشہور گانا لے کر کوک سٹوڈیو میں آئے اور ان کے ساتھ راک ریدھم سیکشن کی گلوکارہ میشا شفیع بھی تھیں۔
اس پرفارمنس کو یوٹیوب پر ایک کروڑ چالیس لاکھ مرتبہ دیکھا گیا اور یہ کوکا کولا کی تاریخ کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو بن گئی اور اس نے لوہار کے کیریئر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور وہ ان کی نوجوان مداحوں تک بھی رسائی ہوئی۔
انہوں نے دانیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ’’کوک سٹوڈیو کرنے سے پہلے میری موسیقی کو صرف وہی سامعین جانتے تھے جنہوں نے مجھے کنسرٹ میں سنا تھا لیکن اس کے بعد یہ موسیقی ایک پوری نئی نسل تک پہنچی۔یہ نوجوانوں تک اور ان لوگوں تک پہنچی جنہوں نے مجھے کبھی نہیں سنا تھا۔میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں‘‘۔
بلال خان جو ایک نوجوان گلوکار اور شاعر ہیں انہوں نے کوک سٹوڈیو سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔وہ کہتے ہیں کہ اس فارمیٹ میں سب کیلئے کچھ نا کچھ ہے۔
’’وہ پرانے لوک گیتوں کو جدید اور پسندیدہ گیتوں میں بدل دیتے ہیں۔ہو کسی ایسی چیز کو لیتے ہیں جو اتنی زبردست نہیں تھی لیکن اس کی ایک روح اور مطلب تھا اور پھر وہ اسے بہت زبردست بنا دیتے ہیں‘‘۔
رضوان خان کہتے ہیں ’’مشرقی اور مغربی اقدار کو ملا کر کوک سٹوڈیو نے پاکستان کی نوجوان نسل کو ان کے کلچر سے اس طریقے سے متعارف کرایا ہے جو ان کیلئے بہت ہموار اور قابل قبول ہے۔انہیں ایسی زبانوں سے متعارف کرایا گیا جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنیں اور ایسے بول جو انہیں جذباتی اور دانشورانہ طور پر ابھارتے ہیں۔کوک سٹوڈیو نے پاکستانیوں میں اونرشپ،جذبات اور وقار کا بہت طاقتور احساس پیدا کیا ہے۔ایک اثاثے کے طور پر کوک سٹوڈیو امید کو فروغ دے کر رکاوٹوں کو ختم کرکے ’خوشی کے در کھول رہا ہے‘ اور کوکاکولا برانڈ کا بھی یہی نعرہ ہے‘‘۔
ایک مثبت اثر
کوک سٹوڈیوایک ہی وقت میں چالیس ٹی وی چینلز اور دس ریڈیو نیٹ ورکس پر نشر ہو کر پاکستان کی نشریات پر چھا گیا۔
سیریز کی ویب سائٹ پر تمام گانے سنے بھی جا سکتے ہیں اور انہیں مفت ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکتا ہے اورہر قسط کو اس شو کے یوٹیوب چینل پر پوسٹ کیا جاتا ہے جسے اب تک نو کروڑ لوگ دیکھ چکے ہیں۔
یہ گانے بہت سی زبانوں اور لہجوں میں گائے جاتے ہیں اور اس سے مختلف عمر کے لوگوں، علاقوں اور گروہوں کے اندر کوک سٹوڈیو کی کشش بڑھ گئی ہے۔
کوکاکولا پاکستان اور افغانستان کے مارکیٹنگ مینجر علی اکبر کہتے ہیں کہ ’’اگر آپ کوک سٹوڈیو کے سیزن میں پاکستان آئیں تو آپ کو ریستورانوں، گھروں، کاروں اور ہر جگہ سے کوک سٹوڈیو کا میوزک ہی سنائی دے گا‘‘۔
وہ کہتے ہیں ’’ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کیلئے جو کار میں اکٹھے بیٹھتے ہیں خواہ وہ کم عمر ہوں یا والدین ان کیلئے ایسا انتظام کر دیں کہ وہ سی ڈی کو بدلے بغیر ہی کوئی گانا منتخب کر سکیں‘‘۔
انٹرٹینمنٹ کا خوش آئند اضافی ذریعہ ہونے کے علاوہ کوک سٹوڈیو اس ملک کا مثبت تاثر پیش کرتا ہے جو سرخیوں میں ہمیشہ منفی انداز میں نظر آتا ہے۔نیوزویک نے اس شو کو گزشتہ دہائی میں پاکستان سے آنے والی بہترین چیز قرار دیا۔اور چونکہ اس شو کے آدھے ناظرین پاکستان کے باہر ہیں اس لئے یہ شو واقعی عالمی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
بلال خان کہتے ہیں ’’کوک سٹوڈیو نے جو کچھ کیا ہے اس نے ہمیں فخر کرنے کیلئے ایک چیز دی ہے۔یہ ہمارے کلچر کو اپنے ساتھ شامل کرتا ہے اور چیز کو آگے بڑھاتا ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مکمل پاکستانی ہے اور پھر اسے بڑے پیمانے پر پھیلاتا ہے۔اس سے لوگوں کو مایوسی کے وقت اعتماد ملتا ہے‘‘۔
چھٹا سیزن
جو حال ہی میں شروع ہوا ہے اس میں ٹیلنٹ کی اضافی لائن بھی شامل ہے جہاں ترکی، اٹلی، مراکش اور دوسرے ملکوں کے فنکار ایک طاقتور علاقائی اثر کے ساتھ سٹیج پر پاکستانی فنکاروں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔
کوکاکولا پاکستان نے نئے سیزن کی لانچنگ اور گزشتہ پانچ برسوں سے جاری اس کامیاب پلیٹ فارم کا جشن منانے کیلئے کتابچوں کا محدود ایڈیشن شائع کیا ہے اور اسے جلد ہی ڈاکیومنٹری فلم کی شکل دے دی جائے گی۔
 
بالی وڈ کا متبادل
پاکستان میں کوک سٹوڈیو کی کامیابی نے کوکاکولا انڈیا کو بھی متاثر کیا کہ وہ ایم ٹی وی کے ساتھ مل کر سن دوہزار گیارہ میں اس شو کا اپنا ورژن شروع کرسکے۔
کوکاکولا انڈیا کے اینٹی گریٹڈ مارکیٹنگ کمیونیکیشنز کے ڈٓائریکٹری وسیم بسیر کہتے ہیں کہ ’’ہم چاہتے تھے کہ ہر گیت میں بظاہر مختلف آرٹسٹ آ کر کوک سٹوڈیو میں حصہ ڈالیں۔اس شو کیلئے ضروری تھا کہ وہ ہمارے برانڈ کی سب کو ساتھ لے کر چلنے والی سپرٹ کا آئینہ دار ہو‘‘۔
سوامی اور ان کی ٹیم نے ایسے لوگوں کی تلاش شروع کی جو عام طور پر سٹیج پر اکٹھے نہیں ہوتے۔وہ کہتے ہیں ’’اس بات کی خوبصورتی لوگوں کو ان کی آرام دہ سوچ سے باہر نکال رہی تھی اور موسیقار ہمیشہ چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور خطرات مول لیتے ہیں۔۔۔یہ چیز انہیں پرجوش کرتی ہے۔جب ہم انہیں اکٹھا کرلیتے ہیں تو پھر کوئی رولز نہیں رہتے۔ہم انہیں بتاتے ہیں کہ وہ اپنے کام کا لطف اٹھائیں اور کوئی ایسی چیز بنائیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں بنائی‘‘۔
یہ فارمولہ واضح طور پر کارگر ہے۔پاکستان کی طرح یہ شو بھی ایک ہی وقت میں ملک بھر کے ریڈیوسٹیشنوں پر نشر ہوتا ہے اور اسے سوشل میڈیا میں طاقتور موجودگی، کوک پیکجنگ، اشتہارات، ریٹیل پروموشنز، کنسرٹس اور دیگر چیزوں سے پروموٹ کیا جاتا ہے۔
تاہم بھارت میں ان گانوں کا صرف کچھ حصہ ہی مفت دیا جاتا ہے۔باقی حصوں کو ڈاؤن لوڈ کیلئے بیچا جاتا ہے یا پھر سی ڈی کمپائلیشن کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے۔ایم ٹی وی انڈیا اور کوکاکولا تمام ریونیو میں حصے دار ہیں اور سونی میوزک کے پاس سارے پبلشنگ حقوق ہیں۔گزشتہ دو سیزنز سے کوک سٹوڈیو کی سی ڈی غیرفلمی البمز میں فروخت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔
بسیر کہتے ہیں ’’کوک سٹوڈیو بالی وڈ کا متبادل بن چکا ہے، اب ایک طرف بالی وڈ کی موسیقی ہے اور دوسری طرف کوک سٹوڈیو کی موسیقی‘‘۔
ایم ٹی وی انڈیا جو پینتیس ملکوں میں دیکھا جاتا ہے اس نے اس شو کو عالمی ناظرین میں مقبول بنا دیا ہے اور سوامی کے الفاظ میں موسیقی کے ایک تجربے کو مین سٹریم میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سوامی کی اہلیہ حال ہی میں جرمنی گئیں جہاں انہوں نے ایک بھارتی دوست سے ملاقات کے دوران اس کے ڈیکس پر کوک سٹوڈیو کی سی ڈی دیکھی۔
وہ کہتے ہیں ’’ایسے اتفاقات ظاہر کرتے ہیں کہ اس موسیقی کے پاؤں بھی ہیں‘‘۔
اور گزشتہ سیزن کی آخری قسط کے دوران ایک دوست نے انہیں ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا کہ اگر آپ کوک سٹوڈیو کو پسند نہیں کرتے تو آپ موسیقی کو ہی پسند نہیں کرتے۔
اور سوامی کا کہنا ہے کہ ’’وہ درست کہہ رہے تھے کیونکہ کوک سٹوڈیو اس نظریے پر کاربند ہے کہ موسیقی زبان کی حدوں سے آگے ہے۔یہ ہر چیز سے بڑھ کر ہے‘‘۔