فیصلہ سازی کے عمل اور ترقیاتی کاموں کے نفاذ کے معاملے میں پسماندہ طبقات کی شمولیت سے سماجی ترقی کا دائرہ اور اس کی پائیداری بڑھ سکتی ہے۔

 
ہرگزرتے دن کے ساتھ، ہر گزرتے دن کے ساتھ
ہم رک جاتے ہیں، نا سانس لیتے ہیں نا حرکت کرتے ہیں
بالکل ساکن جہاز کی تصویر کی طرح
جو ایک پینٹ کئے ہوئے سمندر پر کھڑا ہے
اور تمام تختے سکڑ گئے ہیں
ہر جگہ پانی ہی پانی ہے
لیکن پینے کیلئے ایک قطرہ بھی نہیں ہے۔


اوپر بیان کئے گئے اشعار دا رائم آف دا اینشنٹ میرینر سے لئے گئے ہیں جو مشہور انگریزی شاعر، نقاد اور فلاسفر سیموئیل ٹیلر کولیرج کی سب سے طویل نظم تھی اور سترہ سو اٹھانوے میں شائع ہوئی تھی۔اس شعر کی آخری دو لائنیں لافانی ہو گئی ہیں اور صدیوں سے لوگ ان لائنوں کا ذکر ایسے وقت میں کرتے آئے ہیں جب اردگرد پانی موجود ہو لیکن پینے کے قابل نا ہو۔
چنانچہ ہم یہاں دو دیہات کاکا پیر اور سومر کا ذکر کرتے ہیں جو سینڈز پٹ اور ہاکس بے کی ساحلی پٹی پر واقع ہیں۔پاس ہی بحیرہ عرب ہے جس میں جھاگدار پانی موجوں کی شکل میں ان ساحلوں سے ٹکرا رہا ہے جہاں ہر سال لاکھوں افراد چھٹیاں منانے جاتے ہیں۔
یہاں تقریباً تین ہزار لوگ رہتے ہیں جو زیادہ تر ماہی گیر ہیں۔کاکاپیر اور سومرمیں روزمرہ ضروریات کیلئے تازہ پانی کی سپلائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔
یہاں پانی کی سپلائی کا صرف ایک ذریعہ ہے اور وہ بھی باقاعدہ نہیں ہے یعنی پانی کے ٹینکرجو کہ مہنگا ہونے کے ساتھ صاف بھی نہیں ہوتا۔
اس کے ساتھ کسی بھی گاؤں میں سینی ٹیشن کا کوئی انتظام نہیں ہے جو اب چھوٹی آبادیوں سے بڑھ کر پرہجوم علاقے بن گئے ہیں۔گاؤں کے لوگ گڑھوں کو لیٹرین کے طور پر استعمال  کرتے ہیں جو اکثر بھرے رہتے ہیں اور اس سے سیوریج کھلی فضا میں پڑا رہتا ہے اور صحت کیلئے سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہری خاص طور پر بچے بار بار مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔حتیٰ کہ ٹھوس فضلے کو بھی اکثر کھلی جگہ پر پھینک دیا جاتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک دونوں دیہات کا یہی حال تھا جو وہاں کئی نسلوں سے ایسے ہی رہ رہے تھے باوجود اس کے کہ شہری علاقوں کے رہنے والے لوگ روزانہ ان دیہات کے پاس سے گزر کر ساحلوں پر مزے کرتے تھے اور اپنی پانی کی بوتلوں اور چھتریوں تک محدود رہتے تھے۔وہ ان دیہات کے پاس سے گزر جاتے تھے یہ جانے بغیر کہ یہاں کے لوگوں کی زندگی کتنی بری حالت میں تھی جن کے پاس وہ اپنی موج مستی کیلئے آتے تھے۔
خوش قسمتی سے کسی کو کاکاپیر اور سومر کے لوگوں کی پسماندہ حالت کا اندازہ ہو گیا اور ان کیلئے زندگی بہتر بنانے کی خاطر ایک بڑا پراجیکٹ شروع کر دیا گیا۔کوکاکولا پاکستان نے اپنی کارپوریٹ سوشل ذمہ داری کے تحت اقوام متحدہ کے ادارے اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ساتھ مل کر دونوں دیہات میں پائیدار واٹر سپلائی اور سینی ٹیشن میں بہتری کا پراجیکٹ شروع کیا۔
اس پراجیکٹ کے تین اہم مقاصد تھے۔پہلا کمیونٹی کے زیر انتظام پانی کی سپلائی، دوسرا سینی ٹیشن کی بہتری اور تیسرا عوام میں آگاہی پھیلانا، گنجائش میں اضافہ کرنا اور ایک ادارہ جاتی سیٹ اپ تیار کرنا۔اگرچہ اس پراجیکٹ میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی شامل ہے پھر بھی سب سے اہم فیکٹر مقامی آبادی خود ہے۔
اس پراجیکٹ کا مقصد صرف اور صرف مقامی آبادی کی بہتری ہے اور اسے کامیاب بنانے کیلئے ان کی اونرشپ ضروری ہے۔مقامی آبادی اس پراجیکٹ میں بھرپور طریقے سے شریک ہے اور سیکھنے پر تیار ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف اس پراجیکٹ کے نفاذ کی ذمہ دار ہے اور وہ ان شعبوں میں قابل ذکر مہارت کو استعمال کر رہی ہے۔کام کے شروع میں گہرائی سے سماجی اور فنی سروےکئے گئے جس کے بعد ایک جامع پلان تیار کیا گیا۔تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کیلئے پراجیکٹ لانچ کی ورکشاپ منعقد کی گئی اور اس میں سب کے کردار اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا۔اگلے مرحلے میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی،گھروں میں ٹوائلٹس کی تنصیب، ٹھوس فضلے کو ٹھکانے لگانے کا کام، منتخب سکولوں میں واٹر سپلائی اور سینی ٹیشن کی بہتری، مقامی آبادی کی تربیت اور عوام میں جامع آگاہی کا کام شروع کیا گیا۔یہ پراجیکٹ مقامی آبادی کی فیصلہ سازی اور اس کے نفاذ کے عمل میں شرکت پر توجہ دیتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ان تبدیلیوں کا اثر اور پائیداری زیادہ ہو گی۔
یہ پراجیکٹ کئی سٹیک ہولڈدرز کے درمیان واضح مقاصد کے حصول کیلئے تعاون کا نمونہ ہے۔ایک ایسا ماڈل جسے اب آسانی سے ان دیگر کمیونٹیز کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جنہیں ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔