کوکاکولا پاکستان نے سپرائٹ کی ڈیجیٹل مہم شروع کی ہے جسے ’’کرنا کیا چاہتے ہو‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس کا مقصد ہمارے اردگرد موجود نوجوان نسل میں نئی توانائی بھرنا ہے اور انہیں معمول کی دنیا سے ہٹ کر ایسا کام کرنے پر آمادہ کرنا جو ان کا دل کہتا ہے۔
آج کے پاکستانی نوجوان اپنے ساتھ ٹکراؤ کا شکار ہیں اور وہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ان کے سامنے ایک راستہ یہ ہے کہ ’’وہ کیا کرنا چاہتے ہیں‘‘ اور اس کے برعکس دوسرا راستہ یہ ہے کہ ’’انہیں کیا کرنے کو کہا جا رہا ہے‘‘ اور یقیناً جیسے جیسے وقت گزرے گا تو اس دوراہے کے جملے یہ ہو جائیں گے کہ ’’وہ کیا کر سکتے تھے‘‘ اور ’’انہوں نے کیا کیا‘‘۔
معاشرے کے معمولات کی پیروی کرنے سے متعلق یہ موجودہ بحران کبھی ختم نا ہونے والی پیچیدگی پید اکر دیتا ہے لیکن اس کا نتیجہ سیلف ایکسپریشن کے خاتمے کی صورت میں بھی نکلتا ہے۔
سپرائٹ جو کہ ایل اینڈ ایل سیگمنٹ کی لیڈر ہے اور جو پاکستان میں فلیورز کی گروتھ کے پیچھے چھپی قوت ہے وہ ہمارے نوجوانوں کی زندگیوں میں زیادہ بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔نوجوانوں کا برانڈ ہونے کی وجہ سے اپنے فلسفے ’’اوبے یو‘‘پر کام کرتے ہوئے سپرائٹ نوجوانوں سے پوچھتی ہے کہ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں؟یہ ایک سادہ سا سوال ہے لیکن اس نے لاکھوں مختلف جوابات پیدا کئے ہیں جس سے نوجوانوں کو احساس ہوا ہے کہ وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنا تو دور کی بات وہ اپنے شوق بھی پورے نہیں کر رہے تھے۔
اور وہ تنہا نہیں تھے۔۔۔پاکستان کے تریسٹھ فیصد نوجوان کسی نا کسی سماجی فرض کی وجہ سے اس راستے پر چل رہے ہیں جو ان کے خاندان والوں، والدین، معاشرتی اقدار یا روایات نے تیار کیا ہے۔
اس مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے جنرل مینجر کوکاکولا ایکسپورٹ کارپوریشن پاکستان رضوان اللہ خان کہتے ہیں ’’جدید مارکیٹنگ کمپینز کی تیاری پاکستان میں کوکاکولا سسٹم کا مرکزی حصہ رہی ہے۔ہم سپرائٹ کے ترقی کے پوٹینشل اور مواقع پر یقین رکھتے ہیں۔یہ برانڈ مسلسل پاکستانی صارفین کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ مسلسل اس برانڈ کی طاقت کا مسلسل اظہار کرتے رہیں اور اپنے روایتی آئی ایم سی ماڈل کو بہتر بنا کر پاکستان کے لیمن لائم سیگمنٹ میں جارحانہ طور پر ایک جوش و جذبہ پیدا کردیں۔
سپرائٹ کی ڈیجیٹل مہم شروع ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی یہ سوشل میڈیا پر چھا گئی اور مختلف فورمز پر مثبت مباحثے شروع کرا دیئے۔اس ڈیجیٹل کمپین کو ایک لاکھ پانچ ہزار ویوز، تراسی ہزار آٹھ سو لائیکس، پانچ ہزار پانچ سو پچاس سے زائد شیئر اور ایک ہزار سے زائد کمنٹس ملے۔ڈیجیٹیل کمپین اس ٹینشن کو پکڑنے میں کامیاب رہی جس کا آج کی پاکستانی نوجوان نسل کو سامنا ہے۔
اس ڈیجیٹیل کمپین میں طلبہ کا ایک گروہ دکھایا گیا ہے اور ان سے کچھ سوالات پوچھے گئے ہیں کہ ’’وہ کیا کر رہے ہیں‘‘ اور ’’وہ حقیقت میں کیا کرنا چاہتے ہیں‘‘ اور اس کے بعد یہ مہم مشہور لوگوں سے ایسے ہی سوالات کرتی ہے تاکہ طلبہ کے جذبات کو ساتھ ساتھ چلایا جا سکے۔
اس مہم کے پس پردہ پیغام یہ ہے کہ اس بات کو سامنے لایا جا سکے کہ انسان کو معاشرتی بندشوں سے آزاد ہو کر اپنے دل کی سننی چاہیے اور وہ کرنا چاہیے جو اسے واقعی اچھا لگتا ہے۔