کراچی میں زابسٹ میں شامل طلبہ کوان کے تجرباتی مارکیٹنگ کورس کے حصے کے طور پر ایک پراجیکٹ دیا گیا کہ وہ یونیورسٹی میں ایک روزہ ایونٹ کے دوران کوکاکولا کا ایک سٹال لگائیں اور آنے والوں کو برانڈ کا ایک سرگرم تجربہ کرائیں۔

کوکاکولا پاکستان کی مدد سے طلبہ نے ایک ایسا سٹائل لگایا جس کا تھیم لائنوں والی بوتل کی ایک سو سالہ تقریبات کے تھیم سے ملتا جلتا تھا۔
سٹال میں داخل ہونے کیلئے جودروازہ تھا اسے اس لائنوں والی بوتل کی طرز پر بنایا گیا تھا۔
اس سٹال کیلئے جو جگہ تھی اس کے اردگرد ایک تار لگا کر کر اس پر فریمز میں تصاویر لگائی گئی تھیں۔
ایک فوٹو بوتھ بھی بنایا گیا تھا جہاں لوگ کوک سے متعلق اپنے ذہن میں آنے والا پہلا لفظ لکھتے تھے کوک کی لائنوں والی بوتل سمیت مختلف اشیا کے ساتھ تصاویر بنوا رہے تھے۔
اس جگہ ایک اور بورڈ بھی رکھا گیا تھا جس پر وزیٹرز لائنوں والی بوتل کی شکل والی چٹیں لگا رہے تھے جن پر وہ اس برانڈ سے وابستہ اپنی پسندیدہ یاد لکھ سکتے تھے۔
اس کے علاوہ طلبہ نے ڈب سمیش میں سے کوکاکولا کے متعلق کچھ آوازیں بھی تلاش کر لیں۔ڈب سمیش ایک موبائل ایپلیکیشن ہے جو کہ آج کل شارٹ سیلفی ویڈیو بنانے کیلئے مقبول ہے جن میں مشہور آوازوں کی ڈبنگ ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ اس جگہ کوکاکولا کا بُک بینک بھی رکھا گیا تھا جہاں لوگ کتابوں کا عطیہ دے کر ٹھنڈی ٹھنڈی کوک حاصل کررہے تھے۔
کوکاکولا بُک بینک پہلے فروری دوہزار پندرہ میں کراچی لٹریچر فیسٹیول میں سجایا گیا تھا۔
اس سرگرمی کے ذریعے ہم نے سٹیزنز فاؤنڈیشن سکولز کیلئے اڑھائی ہزار کتابیں جمع کیں جو معاشرے کے نچلے طبقے کیلئے خدمات انجام دیتا ہے۔
ان کتابوں میں سے آٹھ سو کتابیں سکول کے بچوں کے پڑھنے کیلئے موزوں نہیں تھیں اس لئے انہیں بیچ دیا گیا جس سے پچاس ہزار روپے جمع ہوئے۔