وہ پراڈکٹ جس نے دنیا کو اس کا سب سے مقبول ذائقہ دیا اس کا جنم آٹھ مئی اٹھارہ سو چھیاسی کو اٹنلانٹا، جارجیا میں ہوا۔ جان سٹیتھ پیمبرٹن جو دوائیاں بنانے کا کام کرتے تھے انہوں نے کوکاکولا کا سیرپ تیار کیا اور اس نئی پراڈکٹ کا ایک جگ بھر کر اپنی گلی میں جیکب کی فارمیسی پر لے گئے۔جہاں اس کے نمونے کو چیک کیا گیا اور اسے ‘‘شاندار’’ قرار دے کر ایک سوڈا فاؤنٹین ڈرنک کے طور پر پانچ سینٹ فی گلاس کے حساب سے فروخت کیلئے رکھ دیا گیا۔جب اس کے ساتھ کاربونیٹڈ پانی ملایا گیا تو یہ فوری طور پر ‘‘مزیدار اور تازدہ دم کرنے والی’’ ڈرنک بن گئی۔اور آج جہاں کہیں بھی کوکاکولا استعمال ہوتی ہے وہاں یہی الفاظ گونجتے سنائی دیتے ہیں۔

ڈاکٹر پیمبرٹن کے پارٹنر اور ریکارڈکیپر فرینک ایم رابنسن کو یہ خیال آیا کہ ‘‘دو سی اشتہار کیلئے اچھے رہیں گے’’ چنانچہ انہوں نے یہ نام تجویز کیا اور مشہور ٹریڈمارک ‘‘کوکا کولا’’ کو اپنے انوکھے انداز میں لکھ دیا۔کوکا کولا کا پہلا اشتہار جلد ہی اٹنلانٹا جرنل میں شائع ہوا جس میں پیاسے شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ‘‘نئی اور مقبول سوڈا فاؤنٹین ڈرنک’’ کا ذائقہ بھی چکھیں۔ہاتھ سے بورڈز پر ‘‘کوکاکولا’’ لکھ کر انہیں سٹور پر لگا دیا گیا جبکہ اس کے ساتھ لفظ ‘‘ڈرنک’’ بھی لکھا گیا تھا تاکہ گزرنے والوں کو پتا چل سکے کہ نیا مشروب سوڈا فاؤنٹین تھا۔پہلے سال میں مشروب کی روزانہ فروخت نو ڈرنکس تھی۔
The Chronicle Of Coca-Cola: John Stith Pemberton


ڈاکٹر پیمبرٹن کبھی بھی اپنی تیار کردہ مشروب میں چھپے فوائد کو نہیں سمجھ سکے۔انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے کاروبار کا کچھ حصہ مختلف پارٹنرز کو بیچ دیا اور اتھارہ سو اٹھاسی میں اپنی موت سے کچھ ہی عرصہ پہلے انہوں نے کوکاکولا میں اپنے آخری شیئرز بھی ایزا جی سینڈلر کو فروخت کر دیئے۔جو اٹنلانٹا سے تعلق رکھتے تھے اور ان کو کاروبار کی بہت زیادہ سمجھ بوجھ تھی۔مسٹر کینڈلر نے مزید حقوق بھی خرید لئے اور مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔