کچھ لوگ اس کہانی کو یوں سناتے ہیں کہ تئیس اپریل انیس سو پچاسی وہ دن ہے جو مارکیٹنگ کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

اس روز کوکا کولا کمپنی نے صارفین کیلئے مصنوعات کی تاریخ میں سب سے بڑا خطرہ مول لیتے ہوئے یہ اعلان کر دیا کہ وہ دنیا کی سب سے مقبول سافٹ ڈرنک کا فارمولہ بدل رہی ہے اور اس کے اتنے زیادہ صارفین ہو جائیں گے جتنے کسی بھی اور بزنس کو کبھی نہیں ملے۔
بڑی کامیابیوں کا سفر
کوکا کولا کمپنی نے نئے فارمولے والی کوکا کولا متعارف کرا دی جسے اکثر ‘‘نئی کوک’’ بھی کہا جاتا ہے۔یہ ننانوے برسوں میں کمپنی کی طرف سے فارمولے کی پہلی تبدیلی تھی۔کوکاکولا کمپنی کا مقصد صارفین کو احتجاج پر مجبور کرنا نہیں تھا بلکہ کمپنی چاہتی تھی کہ کوکاکولا برانڈ اور سب سے بڑی مارکیٹ یعنی امریکہ کے اندر کولا کیٹگری میں نئی توانائی بھری جائے۔
اصل فارمولے کی واپسی جسے اب کوکا کولا کلاسیک کہا جاتا ہے کی وجہ سے چند ماہ بعد ہی تنقید کا طوفان تھم گیا۔گیارہ جولائی انیس سو پچاسی کو کوکا کولا کے اصل فارمولے کی واپسی نے ان اناسی دنوں کو ڈھانپ لیا جنہوں نے سافٹ ڈرنک انڈسٹری میں انقلاب برپا کر دیا تھا اور کوکاکولا کمپنی کو بھی بدل دیا تھا۔یہ واقعہ آج بھی ذہانت کے ساتھ خطرات مول لینے کی طاقت کا گواہ ہے خواہ وہ خواہش کے مطابق کامیاب ہوں یا نا ہوں۔
انیس سو پچانوے میں‘‘نئی کوک’’ کے دس برس مکمل ہونے پر ملازمین کی ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف اس وقت کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر رابرٹو گوئی زیوٹا نے کہا تھا ‘‘ہم نے امریکہ میں شوگر کولا کی بنیادوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی اور ہم نے بالکل ایسا ہی کیا اگرچہ یہ ہمارے منصوبے کے مطابق نہیں ہوا تھا’’۔
لیکن مسٹر گوئی زیوٹا نے یہ بھی کہا کہ ‘‘اس ’نئی کوک‘ کا سب سے قابل ذکر نتیجہ یہ تھا کہ اس نے ایک انتہائی طاقتور سگنل بھیجا۔۔۔ایک ایسا  سگنل کہ ہم لوگ اپنے کاروبار کے مالکان کی قدروقیمت بڑھانے کیلئے جو کچھ بھی ضروری تھا کر گزرنے کیلئے تیار تھے’’۔
لانچنگ کے فیصلے پر اثرانداز ہونے والے عوامل
 ‘‘نئی کوک’’ کی کہانی کو بہت مرتبہ بیان کیا جا چکا ہے لیکن اس کا سیاق و سباق اکثر بھلا دیا جاتا ہے۔انیس سو پچاسی میں کوکا کولا کمپنی کی اپنی سب سے بڑی حریف کمپنی پر اس کی سب سے بڑی مارکیٹ اور سب سے بڑی پراڈکٹ پر برتری میں مسلسل پندرہ برسوں سے کمی آ رہی تھی۔عمومی طور پر کولا کیٹگری پر جمود طاری ہو گیا تھا۔کوکا کولا کو ترجیح دینے والے صارفین کم ہو رہے تھے اور صارفین کی آگاہی بھی کم ہو رہی تھی۔لیکن انیس سو پچاسی کے موسم گرما میں یہ سب کچھ بدل گیا۔‘‘نئی کوک’’ پر صارفین کے احتجاج ختم ہو گیا اور اس کی جگہ صارفین کوکاکولا کلاسیک کو پسند کرنے لگے۔
کوکاکولا کا مشہور زمانہ فارمولہ بدل گیا اور اس کی جگہ اس فارمولے نے لے لی جسے دو لاکھ صارفین پر کئے جانے والے تجربے میں سب سے زیادہ پسند کیا گیا تھا۔بلاشبہ ان تجربات سے ایک چیز ظاہر نہیں ہو سکی تھی اور وہ تھی صارفین کی کوکاکولا سے وابستگی۔۔۔یہ ایسی چیز تھی جس کے متعلق صارفین چاہتے تھے کہ کوئی بھی اس سے چھیڑچھاڑ نہ کرے حتیٰ کہ کوکاکولا کمپنی بھی نہیں۔
انیس سو پچاسی کے موسم بہار اور موسم گرما میں ہونے والے واقعات۔۔۔ماہرین کا ‘‘صدی کے مارکیٹنگ کے سب سے تباہ کن قدم’’ پر تنقید کرنا، صارفین کا ‘‘پرانی’’ کوک ذخیرہ کرنا، ہزاروں افراد کی طرف سے احتجاج کی کالیں۔۔۔نے کوکاکولا کمپنی کی سوچ کو ہمیشہ کیلئے بدل دیا۔
دس سال مکمل ہونے کی تقریبات کے موقع پر مسٹر گوئی زیوٹا نے ‘‘نئی کوک’’ کے فیصلے کو ‘‘ذہانت سے خطرات مول لینے’’ کی بڑی مثال قرار دیا۔انہوں نے تمام ملازمین پر زور دیا کہ وہ کام میں ذہانت سے خطرات مول لیں، ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا کمپنی کی کامیابی کیلئے بہت اہم ہے۔اس روز جو ملازمین موجود تھے ان میں سے بہت سے لوگ انیس سو پچاسی میں بھی کمپنی میں کام کرتے رہے تھے اور انہیں یاد تھا کہ صارفین نے ہزاروں کی تعداد میں ٹیلیفون کالز کی تھیں اور اپنی شکایات درج کرائی تھیں۔
اس دور میں نا صرف یہ کہ کوکاکولا کی فون لائن پر کالز کی بھرمار ہو گئی تھی بلکہ امریکہ بھر میں کمپنی کے دفاتر میں بھی فون آنے لگے تھے۔جون انیس سو پچاسی تک کوکاکولا کمپنی کو کنزیومر ہاٹ لائن پر پندرہ سو کالز روزانہ موصول ہو رہی تھیں جو کہ حالیہ تبدیلی سے پہلے آنے والی چار سو کالز روزانہ سے بہت زیادہ تھیں۔ایسا لگتا تھا کہ لوگ ہمارے ہیڈکوارٹر کی عمارت کے سیکیورٹی افسروں سے لے کر اپنے اردگرد رہنے والے کمپنی ملازمین تک کو ذاتی طور پر اس تبدیلی کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے۔
مسٹر گوئی زیوٹا کو ایک خط ملا جس کا عنوان تھا ‘‘پرانے دور کے چیف کوکاکولا کمپنی کے کے نام’’ (وہ اکثر کہتے ہیں کہ انہیں اس بات سے زیادہ پریشانی ہوئی تھی کہ یہ خط واقعی ان تک پہنچا دیا گیا)۔ایک اور شخص نے انہیں لکھا کہ انہیں ان کا آٹوگراف چاہیے تھا کیونکہ آنے والے دنوں میں ‘‘امریکہ کی کاروباری تاریخ میں سب سے نکمے ایگزیکٹوز’’ کے دستخط بھی قیمتی ہو جائیںگے۔
جب ذائقے میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا تو کچھ صارفین آپے سے باہر ہو گئے اور اپنے تہہ خانوں میں کوک کے کریٹ ذخیرہ کرنے لگے۔ٹیکساس کے شہر سان انٹونیو میں ایک شخص مقامی دکاندار کے پاس گیا اور ایک ہزار ڈالر کی کوکا کولا خرید لی۔کچھ لوگ اپنی پسندیدہ سافٹ ڈرنک کے کھو جانے پر مایوس ہو گئے۔اچانک ہی ہر کوئی کوکا کولا کے متعلق باتیں کرنے لگا اور اس بات کو سمجھنے لگا کہ اس کی زندگی میں کوکاکولا نے کتنا اہم کردار ادا کیا تھا۔
 سوسائٹی فار دا پریونشن آف دا رئیل تھنگ اینڈ اولڈکولا ڈرنکرز آف امریکہ (جس نے ‘‘پرانی’’ کوک کو واپس لانے کیلئے ایک لاکھ کارکن بھرتی کرنے کا دعویٰ کیا تھا) جیسے گروہ پورے ملک میں پھیل گئے۔پرانے ذائقے کی شان میں گیت لکھے گئے۔مئی میں اٹلانٹا شہر کے مرکزی علاقے میں کوکاکولا کی ایک تقریب کے دوران مظاہرین نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ان پر لکھا تھا ‘‘ہمیں اصل چیز چاہیے’’ اور ‘‘ہمارے بچوں کو کبھی ریفرشمنٹ کا علم نہیں ہو سکے گا’’۔
ایک کلاسیک کی واپسی
جب جولائی انیس سو پچاسی میں ‘‘پرانی’’ کوکاکولا کی واپسی کا اعلان کیا گیا تو وہ لوگ جو اپنے تہہ خانوں میں نو، نو سو بوتلیں جمع کر رہے تھے اب وہ اپنی خود ساختہ ذخیرہ اندوزی کو چھوڑ کر ہمیشہ کی طرح جی بھر کر اس پراڈکٹ کو پی سکتے تھے۔
جولائی کے اس روز دو ٹی وی چینلز کے خبرناموں میں یہ خبر نشر ہوئی اور ہر بڑے اخبار کے پہلے صفحے پر یہ خبر شائع ہوئی کہ ‘‘پرانی’’ کوکاکولا دوبارہ سٹورز کی زینت بن رہی ہے۔صارفین نے اس فیصلے کو سراہا۔کوکا کولا کلاسیک کے اعلان کے صرف دو روز کے اندر کوکا کولا کمپنی کو ہاٹ لائن پر اکتیس ہزار چھ سو کالز موصول ہوئیں۔کوکاکولا بلاشبہ صرف ایک سافٹ ڈرنک سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو چکی تھی۔
کوکاکولا کلاسیک کو کوکاکولا (‘‘نئی کوک’’) کے ساتھ فروخت کیا گیا۔اور دونوں برانڈز کی اشتہاری مہم الگ الگ چلائی گئی۔نوجوانوں کیلئے ‘‘کیچ دا ویو’’ (لہر کو پکڑو) نامی مہم کوک کے نئے ذائقے کیلئے تھی جبکہ جذباتی ‘‘ریڈ، وائٹ اینڈ یو’’ (سرخ، سفید اور آپ) نامی مہم کوکاکولا کلاسیک کیلئے تھی۔بعد میں کوکاکولا کے نئے ذائقے کا نام کوک ٹو رکھ دیا گیا۔اب یہ پراڈکٹ امریکہ میں دستیاب نہیں ہے۔
انیس سو پچاسی کے واقعات نے سافٹ ڈرنک انڈسٹری اور کوکاکولا کی کامیابی کے پیمانوں کو ہمیشہ کیلئے بدل ڈالا اور کوکاکولا برانڈ نئی بلندیوں کو چھونے لگا اور صارفین نے کوکاکولا کیلئے اپنی محبت کو ہمیشہ یاد رکھا۔