شاید اس نوجوان نسل کے متعلق کوئی چیز بہت خاص ہے۔اکثر میڈیا میں انہیں ضرورت سے زیادہ آرام پسند اور حتیٰ کہ خودغرض بھی کہا جاتا ہے۔لیکن جو لوگ انیس سو بیاسی سے دوہزار چار کے درمیان پیدا ہوئے ہیں انہوں نے تعلیم سے لے کر ٹیکنالوجی تک ہر شعبے میں تباہی مچا دی ہے۔


اور جب آپ سوچتے ہیں کہ دنیا میں دو ارب سے زائد لوگوں کی عمر بیس سال سے کم ہے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بہترین کام تو ابھی ہونا ہے۔

یہی چیز بنیا بنی ہے ٹو بلین  انڈر ٹوئنٹی کی جو ایک کتاب کا نام بھی ہے اور اسی نام کی ایک کمیونٹی بھی ہے جسے دو نوجوان کاروباری افراد اٹھارہ سالہ جیرڈ کلینرٹ اور اکیس سالہ سٹیسی فریرا نے سن دوہزار تیرہ میں شروع کیا تھا۔

اس کتاب میں پچھتر لوگوں کی کہانی بیان کی گئی ہے جن کی عمر بیس سال سے کم ہے لیکن وہ دنیا کے انتہائی تیز اور ذہین لوگ ہیں۔یہ کتاب تقریباً مکمل ہے۔کلینرٹ اور فریرا اسے بیسٹ سیلنگ سطح پر فروخت کرنے کیلئے فنڈ جمع کر رہے ہیں۔

اس پراجیکٹ کے متعلق متاثرکن بات یہ ہے کہ اس میں جن لوگوں نے حصہ ڈالا ہے اس میں بیس ممالک شامل ہیں۔اور ان میں اولمپئنز سے لے کر سیلیکان ویلی کے اعلیٰ لوگ، کامیاب کاروباری نوجوان، ڈزنی چینل کے ایکٹر، قومی سطح پر مقبول گلوکار، کامیاب سماجی کاروباری لوگ، مشہور مقرر، سائنسدان اور دیگر لوگ شامل ہیں۔

کلینرٹ کہتے ہیں ‘‘ہم نے واقعی ہر شعبے سے لوگوں کو متوجہ کیا ہے’’۔کلینرٹ فلوریڈا کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے اپنی پہلی کمپنی ناؤ آئی گیٹ اٹ ڈاٹ کام پر بنائی تھی اور وہ بھی صرف پندرہ برس کی عمر میں اور اب وہ ایک نئی سافٹ ویئر کمپنی ففٹین فائیو کیلئے پارٹ ٹائم کام کر رہے ہیں۔جب وہ ٹو بلین انڈر ٹوئنٹی پر کام نا کر رہے ہوں تو وہ ملک بھر میں لوگوں سے بات کرتے ہیں اور مشورے لیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ‘‘ہم نے زبردست لوگوں کا ایک گروپ بنا لیا ہے جو ہماری نسل کیلئے ایک بڑی سوچ رکھتے ہیں جہاں ہم دنیا کے سب سے سنجیدہ مسائل حل کرنے کیلئے ایک کمیونٹی کی طرح مل کر کام کر سکتے ہیں’’۔

کلینرٹ کو ٹوبلین انڈر ٹوئنٹی کا آئیڈیا نومبر دوہزار بارہ میں نیویارک سٹی میں آیا تھا جب وہ انڈر ٹوئنٹی اجلاس میں شریک تھے۔ویک اینڈ پر ہونے والے اس سمٹ کو تھائیل فیلوشپ نے سپانسر کیا تھا۔اس موقع پر ہر سال بیس نوجوانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ وہ کالج سے نکل کر اپنے کاروباری خواب پورے کر سکیں۔وہاں انہوں نے نئے بزنس مین ایلکس پیکے کی باتیں سنیں جس سے انہیں اس کتاب کا تصور ملا۔

کلینرٹ کہتے ہیں ‘‘انہوں نے ہمیں چیلنج کیا کہ ہم نوجوانوں میں یہ وائرس پھیلائیں کہ وہ اپنی زندگیوں کے ساتھ کچھ اچھا کریں’’ اور ایک ہی لمحے میں کلینرٹ کو پتا چل گیا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔

کلینرٹ کو اعتراف ہے کہ ان جیسے ڈیجیٹل دور کے لوگوں کیلئے ایک کم ٹیکنالوجی والی چیز جیسے کہ کوئی کتاب لکھنا غیرروایتی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کتاب میں کوئی پییغام پھیلانے کی منفرد طاقت ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں ‘‘یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق میڈیا بہت کچھ کہہ سکتا ہے’’۔وہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ کتاب کو سوشل میڈیا پر بہت مقبول بنایا جا سکتا ہے اور اسے مکمل ہونے کے بعد کمیونیٹی کی نمائندہ ملاقاتوں میں بھی پروموٹ کیا جا سکتا ہے۔

کلینرٹ کو معلوم تھا کہ ہو اس پراجیکٹ کو تنہا پورا نہیں کر سکتے۔چنانچہ مارچ دوہزار تیرہ میں انہوں نے انڈر ٹوئنٹی سمٹ کی فیس بک کمیونٹی پر ایک پیغام پوست کیا جس میں لوگوں سے اس میں شریک ہونے اور ایک معاون مصنف اور ایڈیٹر کا تعاون مانگا گیا۔تیس منٹ کے اندر انہیں نا صرف یہ کہ کئی لوگوں کے جوابات موصول ہوئے بلکہ انہیں لکھنے کیلئے ایک پارٹنر بھی مل گیا۔اور وہ تھیں فریرا۔انہوں نے اٹھارہ برس کی عمر میں اپنی پہلی کمپنی قائم کی تھی۔اس کمپنی کا نام تھا مائی سوشل کلاؤڈ جو انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر قائم کی تھی اور اس میں انہوں نے سرمایہ کاروں کے ایک گروپ سے ایک ملین ڈالر فنڈ اکٹھے کئے جس میں سر رچرڈ برینسن بھی شامل تھے۔اس کمپنی کو انہوں نے ریپیوٹیشن ڈاٹ کام کو بیچ دیا۔

فریرا کہتی ہیں ‘‘جب میں نے فیس بک پر جیرڈ کی یہ پوسٹ دیکھی جس میں انہوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے نوجوانوں کیلئے کتاب لکھنے کی بات کی تھی تو میں نے فوراً اس کتاب کی قدروقیمت کا اندازہ لگا لیا اور سوچا کہ یہ کتاب نوجوانوں کو آپس میں جوڑنے کا اہم ذریعہ ثابت ہو گی اور وہ اس سے اپنے تجربات شیئر کرنے کے علاوہ بہت کچھ سیکھ بھی سکیں گے’’۔

کلینرٹ کہتے ہیں ‘‘سٹیسی اور میں برابر کے  شریک ہیں اور ہم نے سب کچھ اکٹھے کیا ہے’’۔

اس جوڑے نے جو پہلا قدم اٹھایا وہ یہ تھا کہ لوگوں تک رسائی کا پروگرام شروع کیا جا سکے اور ایک ویب سائٹ بنائی جائے جہاں مطلوبہ لوگ اپنی کہانی پانچ کیٹگریز میں پوسٹ کر سکیں گے جس میں وہ بتائیں گے کہ کیسے انہوں نے اپنے جذبے کو پہچان کر اس کے مطابق عمل کیا۔یہ کیٹگریز تھیں شروعات، خطرہ مول لینا، سفر، سیکھنا اور کامیابی۔

کلینرٹ اور فریرا نے ان لوگوں کی کہانیوں کو ایڈٹ کیا اور انہیں بڑھایا جو ایک سے تین صفحات پر مشتمل تھیں۔صرف ایک شرط رکھی گئی تھی کہ متعلقہ شخص کو اکتیس دسمبر دوہزار بارہ تک بیس سال یا اس سے کم عمر ہونا چاہیے۔

اس کتاب کیلئے جو متنوع کہاںیاں حاصل کی گئیں اس کی ایک مثال ڈربی شوماخر ہیں جو ریاست ٹینیسی کے علاقے چٹانوگا سے تعلق رکھنے والی اٹھارہ سالہ سائنس اور ریاضی کی ماہر ہیں اور جنہیں گزشتہ سال ایک مقامی مقابلہ حسن جیتنے کی وجہ سے مس میٹروپولیٹن کا خطاب بھی ملا تھا۔انہیں حال ہی میں سٹین فورڈ میں داخلہ ملا اور اس موسم گرما میں مس ٹینیسی کے مقابلے میں حصہ لیں گی۔

شوماخر کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی کہانی سیکھنے والی کیٹیگری میں پوسٹ کی کیونکہ اس میں یہ بات شامل تھی کہ ناکامی سے نمٹنا کیسے سیکھنا ہے۔‘‘میری کہانی یہ ہے کہ کیسے پرفیکشن سے دور رہنا ہے اور ناکامی کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہے’’۔وہ کہتی ہیں ‘‘میں نے یہ بات بھی لکھی کہ میں نے کیسے خطرات مول لینے کو اپنا معمول بنانے کیلئے سخت محنت کی کیونکہ یہ ایسی چیز تھے جس میں مجھے کافی مشکل ہوتی تھی’’۔

اس کتاب کیلئے کہانی بھیجنے والے ایک اور شخص کرسٹوفر پروئجسن ہیں جن کی عمر اکیس برس ہے جو ہیں تو امریکن لیکن اب لندن میں رہتے ہیں۔۔وہ سٹیریو ڈاٹ می کے شریک بانی اور سی ای او اور سٹارٹ اپ بس افریقہ کے شریک بانی ہیں۔کتاب میں پروئجسن لکھتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی کے چیلنجز پر قابو پایا جس میں وہ ایک یتیم خانے میں بھی رہتے رہے اور آخر کار وہ آکسفورڈ یونیورسٹی تک جا پہنچے۔وہاں وہ آکسفورڈ انٹرپینیورز گروپ کے سب سے کم عمر صدر بھی بنے۔


وہ کہتے ہیں ‘‘ٹوبلین انڈر ٹوئنٹی کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے ساتھ شاید میرا کبھی بھی کوئی تعلق نا بنتا’’۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ ان سارے روابط کا کیا اثر ہو گا۔لیکن یہ ایک اچھی بات ہے کہ ہم سب کسی زندگیوں میں کسی نا کسی طرح سے مثبت تبدیلی ہی آئے گی۔